وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی  کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو  بریفنگ

0
93

اسلام آباد، 09 جولائی ( اے پی پی): وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا ،  کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو  بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا سابق وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف جو مختلف وزارتوں کی ذمہ داریاں سنبھالے رہے، ان کے بارے میں مصدقہ اطلاع ملی ہے کہ وہ اپنی وزارت کے دور میں ایک غیر ملکی ادارے کے تنخواہ دار ملازم تھے جو کہ نہ صرف ان کے عہدے کے منافی ہے بلکہ اس حلف کی خلاف ورزی ہے جو انہوں نے وزارت کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے اٹھایا تھا۔ کابینہ نے وزارت داخلہ کو ہدائیت کی کہ اس سنگین خلاف ورزی کی تفصیلی تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ وفاقی کابینہ نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں ملکی میڈیا بالخصوص الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو مجرموں کے بیانیہ کی تشہیر کے لئے استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ کابینہ نے اس بات کا نوٹس لیا کہ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں سزایافتہ مجرمان یا زیر تفتیش ملزمان کو اپنے ذاتی مقاصد کی تشہیر یا قومی اداروں کو دباؤ میں لانے کے مقصد کے لئے میڈیا کے استعمال کی اجازت نہیں دی جاتی۔ کابینہ نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اس روش کی حوصلہ شکنی کے ضمن میں اپنی ذمہ داریاں نبھائے۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے مشیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر کو ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آٹا، گھی اور دال جیسی ضروری اشیائے استعمال کی قیمتوں میں مناسب سطح پر رکھا جائے تاکہ کم آمدنی والے اور غریب افراد پر اس ضمن میں کوئی اضافی بوجھ نہ پڑے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ بعض اداروں کی جانب سے کچھ افراد کو ملازمت میں بار بار توسیع دینے کی روش اختیار کی جا رہی ہے اور اس مقصد کے لئے میڈیا میں دیئے جانے والے اشتہارات میں بھی مخصوص افراد کے انتخاب کو ہی یقینی بنانے کے قواعد بنائے جاتے ہیں۔

 وزیراعظم نے کہا کہ ایک طرف جہاں تعلیم یافتہ، قابل و مستحق افراد سرکاری ملازمتوں کے حصول میں مشکلات کا شکار ہیں وہاں مخصوص لوگوں کی مدت ملازمت میں بے جا توسیع کی جاتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل میں سرکاری ملازمتوں کے سلسلے میں اشتہارات میں جانبداری کا مظاہرہ کرنے والے سرکاری اداروں کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ باوثوق ذرائع سے یہ اطلاع ملی ہے کہ سابق وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف جو مختلف وزارتوں کی ذمہ داریاں سنبھالے رہے، ان کے بارے میں مصدقہ اطلاع ملی ہے کہ وہ اپنی وزارت کے دور میں ایک غیر ملکی ادارے کے تنخواہ دار ملازم تھے جو کہ نہ صرف ان کے عہدے کے منافی ہے بلکہ اس حلف کی خلاف ورزی ہے جو انہوں نے وزارت کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے اٹھایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ اس سنگین خلاف ورزی کی تفصیلی تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ کابینہ کو سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے غیر ملکی دوروں کی تعداد اوران پر اٹھنے والے اخراجات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے سال 2008-2013ءکے دوران کل 134 دورے کئے جن کا دورانیہ 257 دن بنتا ہے۔ ان دوروں میں وفود کی کل تعداد 3227 افراد بنتی ہے جبکہ ان دوروں پر کل 142 کروڑ 15 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ان کے دبئی کے 51 دوروں پر 105.32 ملین روپے، لندن کے 17 دوروں پر 321.82 ملین روپے، امریکہ کے 8 دوروں پر 400.84 ملین جبکہ چین کے آٹھ دوروں پر 111.65 ملین روپے کے اخراجات ہوئے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ سابق صدر کے 59 بیرون ملک دورے نجی، ٹرانزٹ یا غیر مخصوص تھے۔ سابق صدر کے دبئی کے 48 دورے ذاتی یا ٹرانزٹ نوعیت کے تھے جن پر کل 98.80 ملین روپے کے اخراجات ہوئے۔ وفاقی وزیر تعلیم نے مزید بتایا کہ وفاقی کابینہ کو بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے دور حکومت 2013-17ءمیں کل 92 بیرون ملک دورے کئے جن کا دورانیہ 262 دن بنتا ہے، ان میں وفود کی تعداد 2352 افراد جبکہ ان پر 183 کروڑ 55 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ سابق وزیراعظم کے لندن کے 24 دوروں پر 223.94 ملین روپے، سعودی عرب کے 12 دوروں پر 177.58 ملین، چین کے 9 دوروں پر 205.88 ملین جبکہ امریکہ کے پانچ دوروں پر 368.05 ملین روپے کے اخراجات ہوئے۔ میاں نواز شریف کے 25 دورے نجی یا ٹرانزٹ نوعیت کے تھے جن پر 247.20 ملین روپے خرچ ہوئے۔ لندن کے 20 دورے نجی تھے جن پر 172.37 ملین روپے خرچ ہوئے، چار عمروں پر 71.78 ملین روپے خرچ ہوئے جبکہ عمرہ کی ادائیگی کے دوران 73 افراد سابقہ وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔ وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ شاہد خاقان عباسی نے اپنے دور حکومت میں 19 بیرون ملک دورے کئے جن کا دورانیہ 50 دن، وفد کی تعداد 214 افراد جبکہ دوروں پر 259.59 ملین روپے کے اخراجات ہوئے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ کابینہ نے ہدایت کی ہے کہ بجٹ مےں ظاہر ان اخراجات کے علاوہ اٹھنے والے اضافی اخراجات (سپلیمنٹری بجٹ کے ذریعے) اور میڈیکل و دیگر اخراجات کی بھی تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ ان تفصیلات سے عوام الناس کو آگاہ کیا جا سکے کہ کس طرح ان کے ٹیکس کے پیسے اور سرکاری وسائل کو ذاتی دوروں کے لئے استعمال کیا گیا۔ کابینہ نے قطر کے شہریوں کے لئے ویزا پالیسی کی بھی منظوری دی جو کہ دوطرفہ بنیاد پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کے مشیر برائے کفایت شعاری و اصلاحاتی ریفارمز ڈاکٹر عشرت حسین نے وفاقی حکومت کے محکموں اور ذیلی اداروں کی تنظیم نو کے حوالے سے اپنی رپورٹ کابینہ کو پیش کی۔ کابینہ نے رپورٹ پر عمل درآمد کے لئے عمل درآمد کمیٹی کی منظوری دی جس میں متعلقہ سیکریٹریز کے علاوہ وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیراعظم کے مشیر محمد شہزاد ارباب اور فخر امام شامل ہوں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کل 441 محکموں/اداروں کے فرائض اور افادیت کا جائزہ لیا گیا اور ان کو بہتر بنانے کے ضمن میں سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ ان سفارشات کی رو سے 43 محکموں کو سرمایہ پاکستان کو منتقل کرنے یا نجکاری، 14 محکموں کو صوبائی حکومتوں، آئی سی ٹی یا گلگت بلتستان کے حوالے کرنے، 8 کو ختم کرنے، 35 اداروں کو انضمام، 17 کی تنظیم نو کر کے ٹریننگ اور پالیسی سپورٹ کے لئے بروئے کار لانے کے لئے استعمال کیا جائے۔ 324 ادارے ایسے ہیں جن کو وفاقی حکومت اپنے پاس برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ کابینہ نے پاک ایران انوسٹمنٹ کمپنی کے ایم ڈی کی تعیناتی کی منظوری دی۔ کابینہ نے اگنائٹ کمپنی اور یونیورسل سروس فنڈ کمپنی کے بورڈز کے ڈائریکٹرز کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) ترمیمی ایکٹ 2019ءکی منظوری دی۔ اس قانون کا مقصد جی آئی ڈی سی میں کمی لانا ہے تاکہ کسانوں کو کھاد کے استعمال میں ریلیف مل سکے۔

 ایک سوال پر شفقت محمود نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔ پیمرا ایک خودمختار ادارہ ہے، کابینہ نے صرف یہ فیصلہ کیا ہے کہ پوچھا جائے کہ پیمرا کی کیا پالیسی ہے اور کیسے ایک زیر تفتیش شخص جو اداروں کی حراست میں ہے، میڈیا پر انٹرویو دے رہا ہے اور اس کو نشر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسی چینل کو بند کیا۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان امریکہ کے سرکاری دورہ پر جا رہے ہیں کیونکہ وہ امریکہ میں زائد قیام کرنا چاہتے ہیں اس لئے زائد اخراجات سے بچنے کے لئے وہ امریکہ میں پاکستانی سفیر کے گھر میں قیام کریں گے جبکہ ان کے ہمراہ وفد تھری اسٹار ہوٹل میں قیام کرے گا۔

 سعدیہ کمال /فاروق