کسی کو مذہبی منافرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود

0
81

اسلام آباد، 18 جولائی ( اے پی پی): وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ یکساں تعلیمی نصاب کے لیے کاوشوں پر بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور نجی اسکولوں، مدارس کی تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور تمام مدارس رجسٹریشن کروانے کے پابند ہوں گے۔

پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ کسی کو مذہبی منافرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ہم مدراس کی مدد کرنا چاہ رہے ہیں مدارس ہم سے منسلک ہوں گےمدارس آزاد ہوں گے وہ اپنا انتظام خود کریں گے وزارت صرف رجسٹریشن کرے گی جو مدارس رجسٹرڈ نہیں ہوں گے وہ کام نہیں کرسکیں گے وزیر تعلیم شفقت محمود کا مزید کہنا تھا کہ یکساں تعلیمی مظام کے نفاذ کے لیے اہم کامیابی ہوئی ہے پرائیویٹ و سرکاری سکولوں اتحاد تنظیم نظام المدارس سے بھی مذاکرات جاری ہیں۔

مدارس وزارت تعلیم سے منسلک ہونے کے بعد بھی نظام و نسق کے خود ذمہ دار ہونگے۔وزارت تعلیم مدارس رجسٹر کرنے کے لیے ریجنل دفاتر قائم کر رہی ہے ۔بنک اکاونٹ سے لے کر تدریسی نظام کے نفاذ اور آئندہ وقتوں میں اساتذہ یا تکنیکی سہولت کی فراہم بھی یقینی بنائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں 12 ریجنل آفسز بنائیں گے اور یجنل آفسز مدارس کی مدد بھی کریں گے۔مدارس کو اساتذہ فراہم کرنے میں بھی مدد کریں گےمدارس میں ٹیکنیکل تعلیم بھی دی جائے گی اورلازمی مضامین مدارس میں پڑھائے جائیں گے لازمی مضامین کا امتحان فیڈرل بورڈ لے گا۔مذہبی مدارس کا امتحان وفاق المدارس لیں گےم دارس سے پڑھے ہوئے بچوں کی اسناد کو پہلے تقسیم نہیں کیا جاتا تھامدارس کے بچوں کو جب ڈگریاں ملیں گی تو انکے لیے دنیا کھل جائے گی جہاں ریاست کے پاس کمی تھی اس خلا کو مدارس نے پر کیا۔جو مدارس رجسٹرڈ نہ ہوئے اس کو وقت دیا جائے گا ۔مدارس کی مالی معاوننت ووکیشنل ٹرینگ پر بات ہوئی میٹرک اور ایف اے کے امتحان میں جو لازمی مضامین ہیں وہ پڑھائے جائیں گے ۔مذہبی مضامین کا امتحان وفاق المدارس دیگر کا فیڈرل بورڈ کرے گا۔مدارس کے بچوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے گا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے زیادہ تر معاملات طے ہوچکے ہیں۔جس پہ مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمان، قاری حنیف جالندھری نے دستخط کیے۔مولانا افضل حیدری، مولانا عبدالمالک سمیت علمائے کرام نے دستخط کیے۔ریاستی اداروں نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم، آرمی چیف کے شکرگزار ہیں جنہوں نے ذاتی دلچسپی لی۔ انھوں نے بتایا کہ مدارس کو کوئی ایسی فنڈنگ باہر سے نہیں ہوتی جس پر تشویش ہو مدارس کو جو فنڈنگ بھی ہو بینکوں کے زریعے ہو۔مدارس کو بینک اکاؤنٹس کھلوانے میں مدد فراہم کریں گے۔

سورس: وی این ایس، اسلام آباد