مظلوم کشمیریوں کے لیے قلمکاروں نے بھرپور کردار ادا کیا ہے: شفقت محمود وفاقی وزیرتعلیم نیشنل بُک فاؤنڈیشن میں اظہارِ یکجہتی کشمیر سیمینار سے خطاب

0
86

اسلام آباد، 22 اگست ( اے پی پی): وفاقی وزیر تعلیم  شفقت محمود   نے نیشنل بُک فاؤنڈیشن میں اظہارِ یکجہتی کشمیر سیمینار سے خطاب   کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کے لیے اہلِ قلم نے بھرپور اور قابلِ تحسین کردار ادا کیا ہے اور کشمیر کے مسئلے کو تاریخی تناظر کے ساتھ دُنیا بھر کے لوگوں کے لیے زندہ رکھا ہے ۔ آج مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند جس والہانہ جذبے اور اپنے حقِ استصواب رائے کے لیے جو تاریخی جدوجہد کر رہے ہیں وہ بہت جلد شرمندہ تعبیر ہوگی۔ خواتین ، بچے، نوجوان ، بزرگ اور کشمیر کے ہر طبقے کے لوگ آزادی اور انسانی حقوق کی بحالی کے لیے بہادری سے کوششیں کر رہے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کشمیریوں کی اس جدوجہد میں ہر سطح پر اُن کی ہم آواز ہے اور کشمیریوں کے لیے کوئی دقیقہ فردگزاشت نہیں کریں گے ۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کشمیر میں چار ہزار سے زائد نوجوانوں کے غائب کیے جانے اور سینکڑوں شہادتوں کی خبریں تشویشناک ہیں اور متعصب ذہنیت کا پتہ دیتی ہیں۔ حکومت پاکستان سفارتی ، اخلاقی اور سیاسی سطح پر کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ حکومت اس مسئلے کو دُنیا کے ہر بڑے فورم میں لے جا رہی ہے اور انسانی حقوق کے پس منظر میں مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت میں لے جانے پر بھی غور ہو رہا ہے۔

 تقریب کی نظامت نامور شاعر محبوب ظفر نے کی جبکہ اہلِ قلم ، خواتین و حضرات، مصنفین، لکھاریوں ، صحافیوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔اس موقع پر کشمیر پر لکھی جانے والی کتابوں کی نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا۔

نامور لکھاری، دانش ور اور این بی ایف کے سینئر بُک ایمبیسیڈرز نے سیمینار کے موضوع کو کشمیر کے پیش منظر کے بجائے اس کے ساڑھے تین ہزار سالہ تاریخی پس منظر میں بیان کیا اور دراوڑوں کی آمد کے بعد انسانوں میں طبقاتی تقسیم کے فروغ اور ہندﺅں میں اچھوت اور شودر کی تقسیم پر تاریخی تناظر میں روشنی ڈالی اور اس حوالے سے دو قدیم کتب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر میں دراصل ہندوﺅں کے اسی متعصبانہ رویوں کی وجہ سے دو قومی نظریے کی بنیاد بھی اُسی وقت ڈال دی گئی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ آج مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ گزشتہ ساڑھے تین ہزار برسوں سے جاری ہے۔ یہ ہٹ دھرمی اور تعصب ہے جس نے دو قومی نظریے کو بنیاد فراہم کی اور جس کے نتیجے میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔

 تقریب میں نامور شاعرہ و مصنفہ عائشہ مسعود ملک نے اپنے تحقیقی مضمون میں کشمیر پر لکھی جانے والی کتابوں کا تعارف اور اہلِ قلم کی قلمی کاوشوں کا ذکر کیا جبکہ چند اور اہلِ قلم نے بھی خطاب کیا۔

 وی این ایس، اسلام آباد