پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ، سیاسی  قائدین کیجانب  مقبوضہ کشمیر  میں بھارتی اقدام کی شدید مذمت

0
74

اسلام آباد،06 اگست (اے پی پی):پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس    کے دوبارہ آغاز پر وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق قرارداد پیش کی۔ قبل ازیں پیش کی گئی قرارداد میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی دفعہ 370 ختم کرنے کا ذکر نہ ہونے پر اپوزیشن اراکین نے احتجاج کیا تھا جس کے باعث اجلاس 20 منٹ کے لیے ملتوی کیا گیا تھا۔ تاہم مشترکہ اجلاس 2 گھنٹے سے زائد تاخیر کے بعد شروع ہوا جس میں اعظم سواتی نے بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کا معاملہ شامل کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر سے متعلق قرارداد پیش کی۔

 پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں اس اجلاس کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے، اس اجلاس کو صرف پاکستانی قوم نہیں دیکھ رہی بلکہ کشمیری اور پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اس سیشن کی اہمیت صرف کشمیریوں اور پاکستان کے لیے نہیں ہے بلکہ بھارت نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے اثرات پوری دنیا پر ہوں گے، لہٰذا یہ بہت اہم ہے کہ تحمل سے سنیں، آج یہاں سے بہت اہم پیغام جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میری حکومت کی اولین ترجیح تھی کہ پاکستان میں غربت کو ختم کیا جائے اس کے لیے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے جائیں کیونکہ عدم استحکام کے اثرات شرح نمو پر مرتب ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے تمام پڑوسیوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی کہ خطے میں سرمایہ کاری آئے گی تو غربت کا خاتمہ ہوگا، میں نے بھارت سے رابطہ کیا کہ آپ ایک قدم ہماری طرف بڑھائیں گے ہم دو بڑھائیں گے جبکہ افغانستان، چین اور دیگر ممالک کا دورہ کیا اور حال ہی میں امریکا کا دورہ کیا۔

عمران خان نے کہا کہ امریکا کا دورہ اسی کوشش کی کڑی تھی کہ ماضی میں جو بھی مسائل تھے وہ ختم ہوں تاکہ پاکستان کو استحکام ملے، ترقی ملے اور غربت کا خاتمہ ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ میں دنیا سے اپیل کرتا ہوں کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا نوٹس لے.دنیا نے صورتحال کا بروقت نوٹس نہ لیا تو حالات کسی کے قابو نہیں رہیں گے.اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس معاملے کو اٹھائیں گے.دنیا کے ہر فورم پر بھارتی اقدام کے خلاف آواز اٹھائیں گے،کشمیریوں کی تحریک آزادی کو پارلیمنٹ کے قانون سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اقوام متحدہ کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا ہے، اب متفقہ قراردادوں سے بات نہیں بنے گی۔ ہم نہ فلسطین ہیں اور نہ ہی اس خطے میں اسرائیل بننے دینگے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے قلم کی ایک جنبش پر کشمیریوں کو ان کے اپنے ہی گھر میں اقلیت میں بدل دیا۔

وزیراعظم عمران خان کے پالیسی بیان، قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کے خطاب کے بعد اسپیکر اسمبلی نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردیا۔

وی این ایس ، اسلام آباد