یورپی یونین کی نمائندہ برائے امور خارجہ پرواضح کردیا کہ ہم کشمیر سے متعلق بھارتی موقف کو مسترد کرتے ہیں: شاہ محمود قریشی

0
34

اسلام آباد، 08 اگست ( اے پی پی): وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی اعلی نمائندہ برائے امور خارجہ فیڈریکا موگرینی کو واضح کیا کہ ہم بھارت کے اس موقف کو یکسر مسترد کرتے ہیں،  کشمیر بین الاقوامی سطح پر متنازع علاقہ ہے اور اس کی آئینی حیثیت ختم کرنا ان کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔

وزارت خارجہ میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج صبح میری یورپی یونین کی اعلی نمائندہ برائے امور خارجہ  سے تفصیلی گفتگو ہوئی میں نے انہیں ہندوستان کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام سے متعلق پوری قوم ، حکومت اور پارلیمان کے جذبات سے آگاہ کیا ہے۔فیڈریکا موگرینی نے مجھے بتایا کہ ان کی بھارت کے وزیر خارجہ سے بھی اس حوالے سے بات چیت ہوئی بھارتی وزیر خارجہ کا موقف ہے کہ کشمیر کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ بھارت کا اندورنی معاملہ ہے اور وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی بہتری کے لیے کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ پنتالیس لاکھ کشمیریوں کو کرفیو کے ذریعے ایک طرح کی حراست میں لے کر کون سا فلاح و بہبود کا قدم اٹھایا جا رہا ہے، اس وقت تقریباً نو لاکھ بھارتی فوج مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعینات ہے یہ کون سی فلاح و بہبود ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جہاں تک ان کا موقف ہے کہ اندرونی معاملہ ہے تو وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کا موقف موجود ہے۔بھارت کے سابق وزیراعظم جواہر لعل نہرو 27 اکتوبر 1947 کے ٹیلی گراف میں کہتے ہیں کہ کسی متنازعہ علاقے کا  الحاق وہاں کے عوام کی استصواب رائے سے کیا جانا چاہیے،25 نومبر کو انڈین مقننہ سے خطاب کرتے ہوئے بھی انہوں نے کشمیر کے حوالے سے واضح کیا کہ اس کا فیصلہ  استصواب رائے یا ریفرنڈم سے فیصلہ کیا جائے،پھر انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر کا تعلق ہندوستان یا پاکستان سے نہیں ہے بلکہ کشمیری عوام سے ہے اور آخری فیصلہ انہی کی رائے سے ہو گا۔انہوں نے پھر ایک جگہ کہا کہ ہم کشمیریوں کو ان کی رائے کے خلاف اپنے ساتھ جبراً نہیں رکھیں گے ہم اقوام متحدہ اور کشمیریوں سے اس بابت پوچھیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کی لوک سبھا میں  اکتیس مارچ 1955 کو کہا گیا کہ کشمیر ، انڈیا اور پاکستان کا معاملہ نہیں ہے کشمیر کے عوام کی رائے کے بغیر اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا،سیکورٹی کونسل سے مخاطب ہوتے ہوئے بھارت نے کہا کہ گورنمنٹ آف انڈیا اور یونین آف انڈیا سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کا احترام کریں گے،جو جے شنکر کا موقف ہے اس کی تردید جواہر لعل نہرو اور ان کے سفارت کاروں  کے بیانات ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی اعلی نمائندہ برائے امور خارجہ فیڈریکا موگرینی نے تین نکات پر بات کی،انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر کے معاملے پر کشیدگی نہ بڑھے،دوسرا انہوں نے کہا یورپی یونین کی خواہش ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات سے ہونا چاہیے،میں یورپی یونین کے اٹھائیس وزرائے خارجہ سے کہتا ہوں کہ ہم تو مذاکرات کے لیے تیار ہیں آپ ہندوستان سے پوچھ لیجئے ۔

وزیر خارجہ نے کہاکہ کچھ عناصر نے غلط خبر اڑانے کی کوشش کی کہ بھارت نے کشمیر سے متعلقہ اقدام امریکہ کی مشاورت سے کیا ہے،ایلس ویلز کا واضح بیان اس سلسلے میں آ چکا ہے ،سینٹر گراہم کا ٹویٹ بھی آ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فضائی حدود کو  ہر گزبند نہیں  کیا ،ہماری کرتار پور کی کمٹمنٹ پوری طرح قائم ہے ہم مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔بابا گرو نانک کا 550 واں جنم  آ رہا ہے ہم اپنی کمٹمنٹ پر قائم ہیں اس پر بھارت سے پوچھا جائے کہ کیا وہ اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں یا نظر ثانی کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اپنے افغان بھائیوں کا احترام کرتے ہیں ،صدر اشرف غنی کا حالیہ دورہ اور ایپکس کے مذاکرات پر ہمیں خوشی ہوئی ہم اپنے افغان بھائیوں کو کسی مشکل میں نہیں رکھنا چاہتے،ہماری تجارت افغانستان کے ساتھ متاثر نہیں ہو گی۔

وفاقی وزیر نے کہا آج میں اس پریس کانفرنس کے ذریعے دنیا کو با خبر کر دینا چاہتا ہوں کہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت کوئی نیا ڈرامہ پلوامہ ٹو کی طرز پر کر سکتا ہےاور فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس بھی نہیں چلے گی۔

سورس وی این ایس اسلام آباد