ایم ٹی آئی نظام کا نفاذ،سرکاری  ہسپتالوں  کی نجکاری  نہیں خودمختاری  کی طرف ایک قدم ہے : ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان

0
83

پشاور، 27ستمبر(اے پی پی): وزیر صحت خیبر پختونخوا ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے سے پہلے پی ٹی آئی کا یہ منشور تھا کہ سیاسی مداخلت کو سرکاری کاموں سے دور رکھا جائے اور طاقت کا استعمال روکا جائے کیونکہ یہ ترقی کی رکاوٹ میں ایک بڑی وجہ بنتی ہے۔ اسی منشور کو سامنے رکھتے ہوئے 2013 میں خیبرپختونخوا میں جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو ہسپتالوں کے نظام کو ٹھیک کرنے کے لئے ایم ٹی آئی قانون متعارف کرایا گیا جس کے تحت ہسپتالوں کا اختیار وزیر صحت اور سیکرٹری صحت سے لے کر ایک بااختیار بورڈ آف گورنرز کو دیا گیا تاکہ وہ ہسپتال کے معاملات کو خود دیکھ سکے اور اس میں بہتری لا سکیں۔ ایم ٹی  آئی نظام کے تحت بورڈ آف گورنرز کو پورا اختیار ہوتا ہے کہ وہ ہسپتال میں ڈاکٹرز اور عملے کی تعیناتی، مشینری کی خریدوفروخت، ادویات کی خریداری سے لے کر دیگر تمام معاملات کسی سیاسی مداخلت کے بغیر تیز رفتاری اور خوش اسلوبی سے انجام دے سکتے ہیں  اور  اس قانون کے تحت ہسپتالوں کو سالانہ ون لائن  بجٹ دے دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے معاملات خوش اسلوبی سے چلا سکیں اور گذشتہ چند  سالوں نے یہ ثابت کیا کہ اس نظام سے صوبے کی ہسپتالوں میں بہتری آئی ہے اور یہ نظام خیبرپختونخواہ میں کامیابی کے بعد اب پنجاب کی ہسپتالوں میں بھی متعارف کرایا جارہا ہے۔

وزیر صحت خیبر پختونخوا ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ کچھ منفی عناصر پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ اس قانون کے تحت ہسپتالوں کی نجکاری کی جارہی ہے اور افسران اور ملازمین کا سول سروس ایکٹ متاثر کیا جا رہا ہے جو سراسر بے بنیاد اور حقیقت کے برعکس ہے یہ چند وہ مٹھی بھر ڈاکٹر حضرات ہیں جو بڑے بڑے شہروں میں اپنے کلینک چلا رہے ہیں اور سارے نظام کو مفلوج کرنا چاہتے ہیں اور انہیں چند ڈاکٹر حضرات نے اس مقدس شعبے کوبدنام کرنے کی ٹھان لی ہے۔ لیکن درد اصل حقیقت میں  اس نظام کے تحت کسی بھی ہسپتال کی نجکاری نہیں کی جاری یہ ایک محض پروپیگنڈا ہے اور نہ ہی کسی سرکاری ملازم کی ملازمت سے سول سرونٹ ایکٹ ختم ہوگا یہ نظام صوبے کی عوام کو بہتر صحت کی سہولیات مہیا کرنے کے لیے حکومت کا ایک انقلابی قدم ہے جو ایم ٹی آئی کی طرح ایک کامیاب ترین منصوبہ ہوگا۔

وی این ایس، پشاور