محکمہ خوراک میں اصلاحات کے نتیجے میں ایک سال کے دوران ایک ارب 61 کروڑ روپے کی بچت کی جا چکی ہے: قلندر لودھی

0
53

پشاور،17 ستمبر (اے پی پی): صوبائی وزیر خوراک قلندر لودھی نے کہا کہ محکمہ خوراک میں اصلاحات کے نتیجے میں ایک سال کے دوران ایک ارب 61 کروڑ روپے کی بچت کی جا چکی ہے۔

 سال 2018-2019 کے دوران محکمہ خوراک کی کارکردگی کے حوالے سے پشاور میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر خوراک نے کہا کہ محکمہ خوراک میں گندم کی خریداری کے لیے مختلف بینکوں سے مقابلے کی بنیاد پر قرضہ لیا جاتا تھااور اس کی واپسی کئی گنا مارک اپ کے ساتھ کی جاتی تھی لیکن 2013 کے بعد بہتر پالیسی اور کوششوں کی وجہ سے گندم کی خریداری کیلئے ایک مروجہ پالیسی کو عملی جامہ پہنایا گیا اور اپنے ہی وسائل سے گندم کی خریداری کا عمل پہلی بار سال 2017 میں متعارف کرایا گیا۔

قلندر لودھی نے  کہا کہ روزمرہ ضرورت کی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے موجودہ حکومت نے امسال خصوصی طور پر ٹیمیں تشکیل دیں جس کے تحت محکمہ خوراک نے فوڈ لاز کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نہ صرف جیل بھیجا بلکہ بھاری جرمانے بھی عائد کیے اوراس مد میں محکمہ ہذا کو امسال چار کروڑ روپے وصول ہوچکے ہیں۔

صوبائی وزیر خوراک نے کہا کہ اس سال گنے کی سو فیصد کاشتکاروں کو نہ صرف شوگرملز سے بروقت رقوم کی ادائیگی کرائی گئی بلکہ شوگر سیس فنڈز کی مد میں تقریبا 97 ملین روپے اکٹھے کئے گئےجو فارم ٹو مارکیٹ روڈ کی تعمیر، پلوں کی تعمیر اور گنے کی تحقیق پر خرچ کیے جائیں گے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ خوراک نے فوڈ سیکیورٹی کے پیش نظر گندم کی ذخیرہ گنجائش 402950 میٹرک ٹن سے بڑھا کر 416950 میٹرک ٹن کر دی گئی ہے۔

حاجی قلندر خان لودھی نے کہا کہ 2013 سے لے کر اب تک روٹی کی قیمت کو دس روپے پر برقرار رکھاجبکہ سال 2013 تا 2018 تک آٹے کی 20 کلو تھیلے کی قیمت 760 سے 780 روپے تک رہی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک نے غذائیت کی کمی جس کا خصوصی طور پر خواتین اور بچے شکار ہیں پر قابو پانے کیلئے یو کے ایڈ کے تعاون سے فوڈ فار ٹیفیکیشن پروگرام کو ابتدائی طور پر پر صوبے کے 13 اضلاع میں متعارف کیا ہے۔

 نئے ضم شدہ اضلاع کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر خوراک نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں محکمہ خوراک نے متصل اضلاع کے افسران اور عملہ کو عارضی طور پر اضافی ذمہ داریاں تفویض کی ہیں تاکہ قبائلی اضلاع میں بھی اشیائے خوردنی ودیگر اشیاءکو بھی حکومت کے مقرر کردہ نرخوں کے مطابق دستیاب کیا جا سکے۔

وی  این ایس، پشاور