بلوچستان حکومت کا  اہم شخصیات کی حفاظت پر متعین پولیس اہلکاروں کو واپس بلانے کا فیصلہ

0
36

کوئٹہ، 09 اکتوبر (اے پی پی ):صوبائی وزیر داخلہ ضیاءلا نگو نے کہا ہے کہ مختلف اعلیٰ حکومتی شخصیات اور  محکمہ  پولیس کے سابق افسران وسیکرٹریز کے ساتھ ڈیوٹی پر مامور 122 پولیس اہلکاروں کو واپس  بلا لیا گیا ہے ،کروڑوں روپے تنخواہوں کی وصولی سرکاری خزانے سے دی جارہی تھی ۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ نے  کہا کہ بھتہ خوری کی روک تھام کیلئے شکایات سیل بنارہے ہیں، جو بھی اہلکار رشوت لے، عوام ان کا ثبوت دے شکایات کے بعد ہم انتظامیہ اور اہلکار کے خلاف کاروائی کرینگے۔ا نسانی جان کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے ہمیں عوام نے ووٹ دیا ہے، ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی خدمت کریں ۔

وزیر دخلہ نے کہا کہ گڈانی جیل میں لیڈی وارڈن کی قتل کا نوٹس لے لیا ہے اور اس حوالے  سے  آئی جی جیل خانہ جات سے رپورٹ طلب کی گئی  ہے، ذمہ داروں کیخلاف جلد کاروائی کرینگے ۔انہوں نے کہا کہ 15 سالہ پہلے روزانہ دہشت گردی کی واقعات ہوتے تھے۔ انڈیا نے کروڈو روپے خرچ کرکے بلوچستان میں امن و امان خراب کیا۔سیکورٹی فورسسز کی  قربانیوں کی بدولت اب امن و امان کی صورت حال بہتر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان حکومت کا جمعیت علمائے اسلام کے آزادی مارچ میں خلل نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا  ہے،جے یو آئی ایک  جمہوری جماعت ہے، دھرنا دینا انکا جمہوری حق ہے۔ جے یو آئی اپنا جمہوری حق استعمال کرسکتی ہیں ۔

 

وی  این ایس،  کوئٹہ