نیب عدالت نے خورشید شاہ کو مزید پندرہ روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا

0
20

 سکھر،21اکتوبر (اے پی پی): سکھر کی نیب عدالت نے خورشید شاہ کو مزید پندرہ روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا، 4 نومبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم، عدالت میں این آئی سی وی ڈی کے سربراہ ڈاکٹر ندیم قمر کی رپورٹ پیش، خورشید شاہ 20 سال سے عارضہ قلب میں مبتلا ہیں، رپورٹ کا متن، سماعت سے قبل ڈاکٹرز کی ٹیم نے خورشید شاہ کا طبی معائنہ بھی کیا۔آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے الزام میں گرفتار پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ کو عدالت کی جانب سے دیا گیا چھ روزہ ریمانڈ پورا ہونے پر پیر کے روز دوبارہ سکھر میں جج امیر علی مھیسر کی نیب عدالت میں پیش کیا گیا ان کو عدالت میں پیش کرنے کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے پولیس کی بھاری جمعیت نیب عدالت کے باہر اور اطراف میں تعینات کیا گیا تھا اور عدالت کے اطراف کی سڑکوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے سیل کیا گیا تھا ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینئر وکیل سابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی کی سربراہی میں وکلاءکے پینل نے پیروی کی سماعت کے اغاز پر نیب پراسیکیوٹر نے اب تک خورشید شاہ سے ہونے والی تحقیقات کی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا اور کہا کہ خورشید شاہ تحقیقات میں تعاون نہیں کررہے ہیں ان سے جو سوال کیا جاتا ہے وہ جواب دیتے ہیں کہ یہ میرا نہیں خاندان کے اثاثے ہیں نیب کی نئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خورشید شاہ کا سائیٹ ایریا سکھر میں بھی دو ایکڑ کا پلاٹ ہے اور ایک پلاٹ سائیٹ ایریا کراچی میں ہے اس لیے نیب ان سے مزید تحقیقات کرنا چاہتا ہے اس لیے ان کو مزید پندرہ دنوں کا ریمانڈ دیا جائے پہلاج مل خورشید شاہ کا بزنس پارٹنر ہے خورشید شاہ کے خاندان کے افراد بھی نیب سے تعاون نہیں کررہے ہیں ان کے صاحبزادے فرخ شاہ کو طلب کیا گیا تھا مگر وہ بھی پیش نہیں ہوئے خورشید شاہ کے فرنٹ مین اکرم خان کے اکاؤنٹ سے پچیس لاکھ روپے خورشید شاہ کے دو اکاؤنٹس میں ٹرانسفر ہوئے نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ خورشید شاہ کے خلاف تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے نیب قانون کے مطابق گرفتار ملزم خود نیب کے الزامات کے خلاف ثبوت فراہم کرتا ہے عدالت سے استدعاہے کہ خورشید شاہ کا مزید پندرہ روزہ ریمانڈ دیا جائے نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں پہلاج مل کے خورشید شاہ کے بزنس پارٹنر ہونے کے کاغذات بھی پیش کردیئے جس کی خورشید شاہ کے وکیل رضا ربانی نے مخالفت کرتے ہوئےکہا کہ خورشید شاہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے پہلاج مل کے خورشید شاہ کے بزنس پارٹنر ہونے کے جو کاغزات پیش کیے گئے ہیں ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اس ایگریمنٹ کو جب قانونی حیثیت حاصل ہوگی اس کو عدالت میں انڈوس بھی کیا جاسکتا ہے خورشید شاہ نے سائیٹ ایریا میں پلاٹ کے لیے درخواست دی ہے لیکن اب تک ان کو پلاٹ ملا نہیں ہے جبکہ پہلاج مل نے بھی خود نیب میں پیش ہوکر بیان دیا تھا کہ وہ خورشید شاہ کے بزنس پارٹنر نہیں ہیں ایسا ہی بیان اکرم خان بھی دے چکے ہیں نیب خورشید شاہ سے اپنی مرضی کا اعتراف کرنا چاہتا ہے جو آئین کے آرٹیکل بی 30 کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے عدالت ان کا مزید ریمانڈ دینے کے بجائے ان کا جوڈیشل ریمانڈ دے اس موقع پر عدالت میں این آئی سی وی ڈی کے سربراہ ڈاکٹر ندیم قمر کی جانب سے خورشید شاہ کی میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ خورشید شاہ بیس برس سے عارضہ قلب میں مبتلا ہیں ان کی زندگی کو خطرہ ہے انہیں این آئی سی وی ڈی منتقل کیا جائے انہیں سانس لینے سمیت بلڈ پریشر کا بھی مسئلہ ہے ان کا اسپتال منتقل ہونا ضروری ہے نیب عدالت کے جج نے دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد نیب کی جانب سے مزید ریمانڈ دینے کی استدعا پر فیصلہ کچھ دیر کے لیے محفوظ کرلیا ،بعد ازاں جج نے فیصلہ سناتے ہوئے نیب کو خورشید شاہ کا مزید پندرہ روزہ ریمانڈ دے دیا اور انہیں دوبارہ 4 نومبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جس کے بعد نیب کی ٹیم خورشید شاہ کو واپس لے کر روانہ ہوگئی خورشید شاہ کی عدالت میں پیشی کے موقع پر پیپلز پارٹی اور اس کی ذیلی تنظیموں کے کارکنوں کی بڑی تعداد بھی عدالت کے باہر موجود رہی۔

وی این ایس، سکھر

Download video