وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے 96 رکنی وفد نے قائم مقام نائب صدر این یو ڈی میجر جنرل آصف علی کی سربراہی میں ملاقات

0
33

کراچی،09 اکتوبر (اے پی پی):  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے 96 رکنی وفد نے قائم مقام نائب صدر این یو ڈی میجر جنرل آصف علی کی سربراہی میں ملاقات کی۔ وفد میں 3 سینیٹرز، 14 ایم این اے، 16 ایم پی اے، 4 بیوروکریٹ، 3 آرمی افسران، 48 سول سوسائٹی کے افراد اور 9 فیکلٹی کے اسٹاف ممبراں شریک تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز شاہ، صوبائی وزیر سعید غنی، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، چیئرپرسن منصوبہ بندی و ترقی ناہید شاہ، آئی جی پولیس ڈاکٹر کلیم امام، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری داخلہ شامل تھے۔  ملاقات میں پریزنٹیشن، سوال و جواب اور بحث و مباحثہ شامل تھا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے ابتدائی الفاظ میں وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آپ کو باب الاسلام سندھ دھرتی آنے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ اسمبلی وہ اسمبلی ہے جس نے پاکستان کی قرارداد پاس کی اور آج اسی اسمبلی کے ووٹ سے میں وزیراعلیٰ سندھ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ امن امان کا گہوارا اورصوفیوں کی دھرتی ہے۔ سندھ لعل شہباز قلندررحہ، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحہ، حضرت سچل سرمست، سامی کی دھرتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس صوفیوں کی دھرتی کو نظر لگ گئی تھی، امن و امان اتنا خراب ہوگیا کہ نوگو ایریا بنا دیئے گئے تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ وہ صوبا ہے جس میں ہر مذہب، ہر زبان، ہر فرقے اور مختلف سوچ کے لوگ محبت سے رہتے ہیں۔ انہوں نے ماضی کے حالات بتاتے ہوئے کہا کہ 2008 میں امن امان کی صورتحال شدید خراب تھی، پولیس اور آرمی کی اسکواڈ کے بغیر آپ ہائی وے پر سفر نہیں کر سکتے تھے۔  2008 میں ہماری پہلی ترجیح صوبے میں امن امان کو بحال کرنا تھا۔  2010 تک ہم نے عوام کی عام زندگی کو بحال کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی پاک افواج، رینجرز، سندھ پولیس، انٹیلی جنس اداروں کا بہت شکرگذار ہوں جنہوں نے محنت سے امن امان بحال کیا۔ دہشتگردی، بھتاخوری، ٹارگیٹ کلنگ بڑے کرائم تھے اور کاروباری لوگ پریشان تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ  سندھ حکومت کے سیاسی عزم سے امن امان بحال ہوا، کاروبار کو فروغ حاصل ہوا اور ثقافتی سرگرمیاں بحال ہوئیں۔ مراد علی شاہ نے کہ کہ دوسرا بڑا مسئلہ سندھ سمیت ملک بھر میں بجلی کے بحران کا تھا۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے بجلی کے بحران  کو محسوس کرنے ہوئے تھر کے کوئلے پر کام کی بنیاد رکھی۔ بہت سارے مسائل ہوئے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے تھر کے کوئلے سے 660 میگاواٹ بجلی پیدا کی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کوئلے سے بجلی پیدا کرنا ایک انقلاب سے کم نہیں۔ تھر کول انرجی بورڈ وہ واحد بورڈ ہے جس میں وفاقی حکومت کی نمائندگی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ملک کے  96 فیصد کوئلے کے ذخائر سندھ میں ہیں۔ جب تھر کول کیلئے ساوریج گارنٹی چاہئے تھی تو ڈھائی سال لگ گئے۔ تھر سے جو بجلی پیدا ہوئی ہے وہ نیشنل گرڈ میں جا رہی ہے.انہوں نے آگاہی دیتے ہوئے بتایا کہ تھر کول بلاک ون پر ایک چائنیز کمپنی نے کام شروع کیا ہے۔ سندھ میں کام کرنے کیلئے جب کوئی کمپنی نہیں آ رہی تھی تو چین کی کمپنی آئی اور انہوں نے پاور پلانٹ لگایا۔  انہوں نے کہا کہ  ہمیں مقامی اور عالمی سرمایہ کاروں کو عزت دینی ہوگی اور قدر کرنی ہوگی۔ چین میں شنگھائی الیکٹرک نے میجر شیئر لیئے ہیں۔ تھر بلاک ون میں بھی کام شروع کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے این ڈی یو کے وفد کو تھر کا دورہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آپ تھر کا دورہ کریں اور سندھ حکومت کی جانب سے ترقیاتی انقلابی کاموں کو دیکھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے 100 بلین روپے تھر کی سڑکیں بنانے پر خرچ کیئے ہیں۔ ہم نے توانائی میں ونڈ کوریڈور اور سولر کوریڈور بنائے ہیں۔ ونڈ انرجی سے ہم 50000 میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں جبکہ اس وقت ہم ونڈ کوریڈور سے 1000 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ سندھ پہلا صوبا ہے جس نے اپنی گرڈ کمپنی قائم کرہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2008 میں ہم نے وفاقی حکومت سے سروسز پر سیلز ٹیکس لینے کیلئے درخواست کی۔ اٹھارویں ترمیم میں سیلز ٹیکس آن سروسز کو صوبائی کام قراردیا گیا۔ 12-2011 میں ہم سیلز ٹیکس کی رکوری شروع کی،  11-2010 میں وفاقی حکومت 14.5 بلین روپے سیلز ٹیکس میں دیئے۔ ہم نے 12-2011 میں 24 بلین روپے جمع کیئے اور اب ہمارا ہدف 140 بلین روپے ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ معیشت کی پالیسی میں مسائل ہونے سے ملکی معیشت بیٹھ گئی ہے، ہمیں اس کو ٹھیک کرنا ہے۔ سندھ کے بعد پنجاب اور خیبر پختون خواہ نے بھی سیلز ٹیکس آن سروسز جمع کرنا شروع کیا ہے۔ بلوچستان اب جمع کر رہا ہے اور ہم انکی اس سلسلے میں مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم وفاقی حکومت کو درخواست کر رہے ہیں کہ سیلز ٹیکس آن گڈز بھی صوبوں کو دیا جائے اور ہم بہتر طریقے سے اسکو جمع کرنے کی صلاحیت رکھتے۔ اس میں سب کا حصہ ہے، ہم صرف کلیکشن کا کام لینا چاہتے ہیں۔

سورس: وی این ایس،کراچی