وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت  ایس ایس آر ایل  ،  بورڈ آف ریونیو  کا اہم اجلاس

0
34

کراچی ، 21 اکتوبر ( اے پی پی): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے  سائنو سندھ ریسورسز لمیٹڈ(ایس ایس آر ایل) پر زور دیا کہ وہ تھر بلاک۔I  ون میں کارپوریٹ ریسپانسیبیلیٹی (سی ایس آر) کے تحت پاور پلانٹ اور کان کنی کو ترقی دیں اور تھر میں زرعی انقلاب لانے کے لیے زرعی بیج کی نئی اقسام متعارف کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ تھر کا صحرا معدنی وسائل سے مالا مال ہے، مگر  پا نی کی قلت اور پانی کی سطح بہت زیادہ نیچے ہونے کے باعث وہاں پر چند ہی فصلیں کاشت ہوپاتی ہیں اور تھر میں جو بھی کاشت ہورہاہے اس کی پیداوار بھی کم ہے لہٰذا  میں صحرائی زراعت کے شعبے کی ترقی کا خواہاں ہوں تاکہ اس علاقے میں ترقی اور خوشحالی آسکے۔ انہوں نے یہ بات آج  وزیراعلیٰ ہائوس میں ایس ایس آر ایل  اور بورڈ آف ریونیو  کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وزیرتوانائی امتیاز شیخ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو  قاضی شاہد پرویز، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو اور دیگر نے شرکت کی جبکہ  ایس ایس آر ایل کی نمائندگی  سات رکنی وفد  جس کی سربراہی کمپنی کے نائب صدر مسٹر زہینگ زنگ  کررہے تھے۔ وفد کے دیگر اراکین میں ٹینگ وائیجا،یانگ جینگ،لی ہانگ  ٹیو،ین وائی چائو،شوریم سرمہ والا و دیگر شریک تھے۔ ایس ایس آر ایل کے نائب صدر زہینگ زنگ نے وزیراعلیٰ سندھ کو یقین دلایا کہ ان کی کمپنی  اپنی تمام سی ایس آر کی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ  وہ چین کے زرعی ماہرین کو شامل کریں گے اور  وہاں پر لوگوں میں بیج تقسیم کریں گے۔  انہوں نے کہا کہ ہماری  توسط سے  لازمی طورپر  وزیراعلیٰ سندھ کا  تھر کے صحرا  میں زرعی انقلاب لانے کے  وژن کو حقیقت کا روپ دیا جاسکے گا۔

          چائنیز کمپنی شنگائی الیکٹرک نے نئے نام ایس ایس آر ایل کے تحت  7.8 ایم ٹی پی اے کول مائن کا تھر کول فیلڈ بلاک۔ ون  میں کام شروع کیا ہے اور براتین بلین ڈالر ز کی براہ راست  سرمایہ کاری سے 1320 میگا واٹ کا پاور پلانٹ  لگایا جائے گا۔ کمپنی میں کان کی ترقی کے لیے  اور برڈن ہٹانے کا کام شروع کردیا ہے۔ کمپنی  کے نائب صدر نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ انہیں اس کے لیے 8216 ایکڑ زمین درکار ہے جس میں 6322 ایکڑز سرکاری زمین  اور 1894 ایکڑ نجی زمین کان کنی، ڈمپنگ، کیمپ،کول یارڈ اور کیپیٹیو  پاور پلانٹ  کے لیے درکارہے۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو  قاضی شاہد پرویز نے وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا کہ سرکاری زمین کی  قیمت کے تعین کا کام  زیر عمل ہے۔ وزیراعلیٰ  سندھ نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو  یہ مسئلہ  آئندہ 20 دنوں کے اندر حل کرنے کی ہدایت کی۔  وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ  ایس ای سی ایم سی کا  متاثر ہونے والے لوگوں کی بحالی  اور آباد کاری کے لیے  ایک جدید رہائشی کالونی  بنانے کی مثال موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری یہ شرط ہے کہ تھر بلا ٹو  کے   1200 متاثرہ خاندان کو بھی  اسی طرح کے گھر بنا کر دیئے جائیں گے

          ایس ایس آر ایل کمپنی کے چیف نے  وزیر اعلیٰ سندھ سے پانی کے استعمال کے معاہدے  پر عملدرآمد کی درخواست کی، اس پر صوبائی وزیر انرجی امتیاز شیخ نے کہا کہ ماکھی۔ فراش کینال سے وزیراعلیٰ سندھ  کی ہدایات پر نبی سر تا واجی ہر کنیکشن تک 200 کیوسک پانی ڈسچارج کیاجائے گاا وربی او ٹی کی بنیادوں پر نجی سرمایہ کاروں کے ذریعے  یہ تعمیر کیاجائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی وزیر انرجی کو ہدایت کی کہ وہ پانی کے استعمال  سے متعلق معاملات منظوری کے لیے  کابینہ میں لے کر آئیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ایک ہزار سے زائد مقامی افراد کو تھر بلاک۔ ون میں روزگار مہیا کیاگیا ہے۔ کمپنی کو مقامی لوگوں کو زراعت کی بہتری  کے لیے زرعی بیج  کی فراہمی  کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ چائنیز چند نئی اقسام کے بیج  فراہم کریں گے جن سے تھر کے صحرائی  علاقے  میں فی ایکڑ پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔

وی این ایس، کراچی