وفاقی زرعی کمیٹی کا اجلاس، ربیع سیزن کی فصلوں کے پیداواری اہداف مقرر

0
28

اسلام آباد، 10 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان کے زیر صدارت وفاقی زرعی کمیٹی (ایف سی اے) کا اجلاس جمعرات کو ہوا۔ اجلاس میں خریف سیزن کی فصلوں کا پیداواری جائزہ جبکہ ربیع سیزن کی فصلوں کے پیداواری اہداف مقرر کئے گئے۔ اجلاس میں صوبائی زرعی محکموں، سٹیٹ بینک آف پاکستان، زرعی ترقیاتی بینک، نیشنل فرٹیلائزر سینٹر، محکمہ موسمیات، ارسا، وزررت موسمیاتی تبدیلی ، پلاننگ کمیشن اور وزارت غذائی تحفظ کے نمائندوں نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہا ہے کہ ایف سی اے کے فورم پر پیداواری لاگت میں کمی اور فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت زرعی شعبے کی ترقی کے منصوبوں کا مقصد جدید زرعی ٹیکنالوجی کا حصول، بہتر بیجوں کی فراہمی، کھادوں کا متوازن استعمال اور زیادہ پیداوار کا حصول ممکن بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ہم کسانوں کی خوشحالی کیلئے قابل عمل اقدامات پر کام کر رہے ہیں۔ اجلاس میں اجلاس میں خریف سیزن کی فصلوں کا پیداواری جائزہ جبکہ ربیع سیزن کی فصلوں کے پیداواری اہداف مقرر کئے گئے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ سیزن ربیع کی فصلوں کے لئے پانی کی فراہمی تسلی بخش ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اگلے سال گنا کی فصل تقریباً 65 ملین ٹن متوقع ہے جبکہ گندم کا مقررہ حدف27 ملین ٹن ہے۔ ارسا نے پاکستان میں پانی کے ضیاع سے متعلق بھی بریف کیا، ہمیں معاشی مضبوطی کے لئے پانی کے ذخائر کی تعمیر کی اشد ضرورت ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ستمبر اور اکتوبر کی بارشوں سے کافی مقدار میں زرخیز زمین کی موجودگی ربیع کی فصلوں کے لئے موزوں ہے۔ گزشتہ سال بینکوں نے زرعی قرضوں کی مد میں مقررہ 1174 ارب کے مقابلے 1250 کی حد عبور کی۔ اگلے سال کے لئے سٹیٹ بینک نے زرعی قرضوں کی مد میں 1350 ارب کا ہدف مقرر کیا۔ گزشتہ سال یوریا اور ڈی اے پی کی فراہمی تسلی بخش رہی، ربیع کے لئے بھی اسکی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔ ڈی اے پی کو ملکی ضروریات کے لئے درآمد کیا جاتا ہے لہٰذا اسکی قیمتوں کا تناسب زیادہ ہے اور ایک بوری کی قیمت 3720 روپے ہے۔ اجلاس میں صوبوں کو بتایا گیا وہ آئل سیڈز اور دالوں کی پیداوار پر خصوصی توجہ دیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ موجودہ حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار زرعی شعبہ کیلئے 13 بھاری بجٹ کے پراجیکٹس تیار کئے ہیں جن کا تخمینہ تقریباً 300 ارب ہے۔ ان منصوبوں کو ایکنیک نے منظور کر لیا ہے۔

سورس: وی این ایس، اسلام آباد