پاکستان اور عمران خان لازم و ملزوم ہیں، استعفٰی کا مطالبہ کرنے والے ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں: ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا  پریس کانفرنس سے خطاب

0
32

لاہور،21 اکتوبر(اے پی پی): وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پاکستان اور عمران خان لازم و ملزوم ہیں،ان کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت سمجھتی ہے کہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کو خود رہبری کی ضرورت ہے اور اس کمیٹی میں بیٹھے سیاستدانوں کی ڈوریاں جیل میں بیٹھے سزا یافتہ قیدی چلا رہے ہیں۔ 27اکتوبر یوم سیاہ کا دن ہے اس دن پوری قوم مظلوم و بے کس کشمیریوں کے بیانیے کو تقویت دینے کیلئے پرعزم ہے، احتجاج کرنا مولانا فضل الرحمن کا آئینی و جمہوری حق ہے تاہم حکومت عوام کو یرغمال نہیں بننے دے  گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی ٗ مخالفین کی گھر کو گھر کے ہی چراغ سے آگ لگانے کی خواہش پوری نہیں ہوگی اور انہیں مایوسی ہوگی۔ وہ پیر کے روز پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر پاک فوج کی بروقت اور بھرپورکارروائی سے ثابت ہو گیا کہ ہم دفاع سے غافل نہیں۔انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے ایک دفعہ پھر جھوٹے بے بنیاد پراپیگنڈے کو ملیا میٹ کر دیا اور اس جھوٹے بیانیے پر مہر ثبت کر دی جو بھارتی میڈیا کی طرف سے پراپیگنڈا اور کشمیر کے اندر کیمپوں کو تباہ کرنے کی صورت میں کر رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ  ہمارے آپس میں اختلافات سیاسی بیانیے پر ہو سکتے ہیں لیکن قومی بیانیے پر ہم اکٹھے ہیں اور بھارتی جارحیت کا بھرپور جوا ب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فردوس عاشق اعوان نے  کہا کہ بلاول بھٹو کو اس وقت سمجھ نہیں آ رہی  کہ لاڑکانہ میں بھٹو کیسے مر گیا ٗجس بھٹو کو زندہ رکھتے ہوئے وہاں کی عوام اور بچے بھوک سے دم توڑ رہے ہوں اور وہاں غربت ناچ رہی ہے امن و امان کی بدترین صورتحال ہے ٗ بیڈ گورنس کی داستانیں ہر ایک کی زبان پر ہیں لیکن بلاول بھٹو اپنی کوتاہیوں ٗ ناکامیوں اور بدانتظامیوں کو جانچنے کی بجائے وفاقی حکومت پر چڑھائی کرتے ہیں ٗ عمران خان کے ساتھ بغض پر مبنی ان کا بیانیہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے ہے ان کے پاس عدالتوں میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے کوئی  دستاویز موجود نہیں اور جب وہ قانونی دفاع نہیں کر سکتے تو میڈیا میں عدالت لگا کر وزیراعظم کی کردار کشی اور نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کسی وقت وفاق کی پارٹی ہوتی تھی وہ آج کرپشن کی بدولت مولانا فضل الرحمن کے تانگے کے پائیدان کے ساتھ لٹکی نظر آ رہی ہے اور معصوم بچوں کو تانگے پر بیٹھا کر ملک کا امن خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ہم اس سے غافل نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے رہبر کمیٹی کو خود رہبری کی ضرورت ہے اور کمیٹی میں بیٹھے سیاستدانوں کی ڈوریاں کہیں اور سے جیل میں بیٹھے سزا یافتہ قیدی چلا رہے ہیں جن کے بچے اپنے اوپر لگے الزامات کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کو آنے کو تیار نہیں وہ قوم کے بچوں کو اپنی ذاتی خواہشات کا ایندھن بنانا چاہتے ہیں۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 27اکتوبر یوم سیاہ  ہے  اس دن مظلوم کشمیریوں کے بیانیے کو تقویت دینے کیلئے پوری قوم پرعزم ہے اور اپوزیشن جب جب پاکستان کو عدم استحکام کی طرف لے جانے کی طرف قدم بڑھائے گی وزیراعظم اور زیادہ معاشی منزل کی قدم بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حب میں وزیراعظم کی طرف سے 1320 میگاواٹ کے منصوبے کا افتتاح کیا گیا جو کہ وزیراعظم کے پسماندہ علاقوں میں ترقی و خوشحالی کے عزم کا ثبوت ہے اور اس سے کم ترقی یافتہ علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور جو انفراسٹرکچر ٗ روڈ نیٹ ورک اور سہولیات ترقی یافتہ علاقوں کو حاصل ہیں وہ بلوچستان کے علاقوں کو بھی فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ گوادر بندرگاہ نومبر میں آپریشنل ہو جائے گی اور اس سے ٹرانزٹ شپمنٹ شروع ہوگی۔ان اقدام سے بلوچستان کے محروم طبقات کو ان کا حق ملے گا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کراچی میں جہالت کے اندھیرے اندھیر نگری چوپٹ راج کی صورتحال ہے تا ہم وزیراعظم نے سندھ اور بلوچستان کی معاشی ٗ اقتصادی اور ترقی کے منصوبوں کا جائزہ لیا اور کنکریٹ حکمت عملی وضع کی ہے اور وہ مشکلات جو صوبائی حکومتوں کو درپیش ہیں وہ وفاقی حکومت حل کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن  دھرنے سے متعلق ابھی تک  کنفیوژن کا شکار ہیں جب وہ خود کسی نتیجے پر پہنچیں گے تو حکومت بھی اپنی حکمت عملی وضع کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج مولانا کا آئینی و جمہوری حق ہے لیکن لٹھ بردار اور ملیشیا کو میڈیا میں متعارف کروا کر ڈنڈ بیٹھکیں دکھانا کیا احتجاج کو ثابت کرتا ہے یاایسے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو حملہ کرنے کے لئے تیار کیا جا رہا ہے جب بات کا جواب مل جائے گا تو حکومت بھی اپنی حکمت عملی بتائے گی۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مدارس میں بچے علم کے حصول کے لئے آتے ہیں لیکن مدارس کے اندر اگر کوئی ان کو ٹریننگ کیمپ میں تبدیل کرے اور مخصوص ایجنڈے کے تحت انہیں اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھائے تو حکومت حکمت عملی وضع کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے اور انہیں یرغمال نہیں بننے دے گی اور ان کے جان و مال کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن 10سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے لیکن آج تک کشمیریوں کے لئے جلوس نکالا نہ کوئی قرارداد پیش کی۔27اکتوبر  انتشار کے لئے چننا کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہےٗ ان کا احتجاج کشمیر کے نام پر جبکہ بیانیہ سیاسی ہے جو دھوکہ دہی اور منافقت ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے ٗ تنقید اور احتجاج ہوتے ہیں لیکن سیاسی بیانیے کو سیاسی  انداز سے ہینڈل کیا جاتا ہے ایک طرف مولانا کمیٹی کو للکار کر یہ کہیں کہ عمران خان کے استعفے بغیر کوئی بات چیت نہیں ہوگی تو کیا ہم گونگے بہرے بن کر ان کی بڑھکیں سنیں اور عمران خان کا استعفٰی پلیٹ میں رکھ کر دے دیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اس وقت پاکستان کی ضرورت ہے اور موجودہ صورتحال میں ملک و قوم کے پاس صرف واحد آپشن عمران خان ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو صرف اصل تکلیف ایک ہی ہے کہ پہلی دفع سول ملٹری قیادت ایک بیج پر ہیں ٗ پہلے امریکی صدور کے ساتھ کانا پھوسی اور سازشیں اپنی فوج اور اداروں کے خلاف ہوتی تھیں پہلی دفعہ حکومت ہر سطح پر آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کر رہی ہے ٗ ڈاکٹروں کے احتجاج کے حوالے سے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت ڈاکٹروں کے جائز مطالبات سننے کے لئے تیار ہے لیکن ان مسیحاؤں کو بھی اپنا مسیحا کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے جہاں مذاکرات ہونے چاہیے وہاں صوبائی حکومت کو فی الفور ڈاکٹروں سے مذاکرات کر کے ہسپتال کو مشکل صورتحال سے نکالنا چاہیے۔ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا دھرنا قانون کی حکمرانی کے لئے تھا انہوں نے پورا ایک سال 4 حلقے کھولنے کی بات  کی لیکن انصاف نہیں ملا جب پاناما میں اس وقت کے وزیراعظم کا نام آیا تو عمران خان نے کرپشن کے خلاف دھرنے کی بات کیٗ مولانا فضل الرحمن یہ بتائیں کہ انہوں نے الیکشن کے خلاف کبھی ایک بھی پٹیشن دائر کی ٗ پوری قوم جانتی ہے کہ یہ اقتدار سے محرومی کا درد ہے اس کو عوام کے درد سے نہ جوڑا جائے۔

وی این ایس، لاہور