حکومت پاکستان اور تمام متعلقہ ادارے مکمل بحالی تک زلزلہ متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں: ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

125

میرپور، 2 اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں میرپورکے زلزلہ متاثرین کی مکمل بحالی تک حکومت پاکستان ،پاک فوج ،این ڈی ایم اے اورسماجی تحفظ کے ادارے ساتھ کھڑے ہیں، ہرسطح پر سیاسی مفادات کے بالاتر ہوکر متاثرین کے لئے کام کرنا پڑے گا ،آزمائش ہمیشہ بہادر اور جرات مند لوگوں کو پیش آتی ہے، مقابلہ کرنے والی اقوام آزمائشوں میں ثابت قدمی سے آگے بڑھتی ہیں،حکومت کی جانب سے متاثرین زلزلہ کے لئے معاوضہ ملک  کے 22کروڑ عوام کے جذبات اور احساسات ہیں یہ پہلا مرحلہ ہے مستقبل میں بھی امداد کا عمل جاری رہے گا، میرپور کی صنعت بھی زلزلہ میں متاثر ہوئی ہے تمام اداروں کے ساتھ مل کرمتاثرین کا مربوط ڈیٹا بینک تیار کیا جارہا ہے، ڈیٹا بینک مکمل ہونے کے بعد بیرونی ممالک کی امداد لینے یا نہ لینے کافیصلہ کیا جائے گا ۔

وہ بدھ کو یہاں زلزلہ متاثرین میں امدادی چیک تقسیم کرنے کی تقریب میں صحافیوں سے گفتگوکر رہیں تھیں ۔چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ڈاکٹرثانیہ نشتر،چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل ،آزادکشمیرکے وزرائ، پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری ،آزاد کشمیر کی انتظامیہ  کے عہدیداران اس موقع پر موجود تھے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آج ایک ایسا لمحہ ہے جس میں ایک طرف دکھی خاندان بیٹھے ہیں جن کے اپنے ان سے بچھڑ چکے ہیں، لوگوں کے آمدن کے ذرائع بھی ختم ہوگئے ،کچھ چہرے ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کی جان بھی کھوئی اور ان کے لئے پریشانی کی گھڑیاں ہیں ، آزمائش ہمیشہ بہادر اور جرات مند لوگوں کو پیش آتی ہے ،مقابلہ کرنے والی قوموں آزمائشوں میں ثابت قدمی سے آگے بڑھتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ان متاثرین کے دکھوں کو کم کرنے کے لئے ایک وسیلہ کا کردار ادا کرسکتی ہے، وزیراعظم نے متاثرین کے دکھ کو محسوس کرتے ہوئے ایک عزم اور کمٹمنٹ اور حکمت عملی کے تحت تھا ، اسی حکمت عملی کی روشنی میں متاثرین کی بحالی اور ان کی اپنے گھروں میں واپسی کے لئے ہماری ٹیم کو میر پور بھیجا گیا ۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے ریسکیو اور ریلیف نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا، پاک فوج تمام افراد کی بحالی تک حکومت پاکستان،آزاد کشمیر اور متاثرین کے ساتھ کھڑی رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ  حکومت کی جانب سے 22کروڑ عوام کے جذبات اور احساس زلزلہ متاثرین کے لئے معاوضہ ہے، یہ پہلا مرحلہ ہے، مستقبل میں بھی ایسا جاری رہے گا ،ہم نے مل کر آگے بڑھنا ہے، اس معاملے پر سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر متاثرین کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے ۔انہوں نے کہا کہ زلزلہ میں جاں بحق ہونے والے خاندانوں کو وزیراعظم کی ہدایت پر  وفاقی حکومت کی جانب سے پانچ لاکھ اور آزاد کشمیر کی حکومت کی جانب سے پانچ لاکھ روپے دیئے جارہے ہیں، متاثرین کو نئی زندگی کو شروع کرنے کے لئے ایک معمولی سی سپورٹ ہوگی ،  38خاندانوں کو پہلے مرحلے میں چیکس دیئے جارہے ہیں،150افراد جو شدید زخمی ہیں یا معذور ہوگئے ہیں ان افراد کے لئے پہلے مرحلے میں ایک لاکھ روپے کا معاوضہ ، معمولی زخمی 600 افراد میں فی کس 50ہزار روپے،  گرنے والے پکے گھروں کی تعداد 1000ہے ،حکومت آزاد کشمیر کی مشاورت سے ان گھروں کے مالکان کو دو لاکھ فی کس ، گھر جو متاثر ہوئے لیکن رہنے کے قابل ہیں ان کوایک لاکھ روپے  ادا کیے جارہے ہیں ،56گھروں کو فی کس 50 ہزار معاوضہ ادا کیاجارہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کا کام ابتدائی طور پر تخمینہ لگا کر پہلے مرحلے میں محسوس کیا کہ شاہد ہمیں عالمی امداد کی ضرورت نہ پڑے لیکن حتمی فیصلہ اسسمنٹ کے بعد ہوگا ، میر پورانتظامیہ نے بتایا ہے کہ میر پور کی صنعتیں بھی متاثر ہوئیں ہیں، ہم نے تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیکر ایک تازہ ترین ڈیٹا بینک بنایا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جو کام حکومت آزاد کشمیر کر رہی ہے حکومت پاکستان اس کو مزید آگے بڑھائے گی اس کے سامنے کوئی متوازی ڈھانچہ نہیں کھڑا کیا جائے گا ،تمام بحالی کے اداروں کو شراکتداری میں لینا ہے ،ہنگامی بنیادوں پر تمام ڈیٹا اکٹھا کر کے زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے مسائل کے تدارک کے لئے حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی ۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئر پرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ وفاقی حکومت کے نمائندے کی حیثیت سے وزیراعظم عمران خان کی نیک تمنائیں پہنچانے آئی ہوں وزیراعظم اس مشکل وقت میں متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں ،وفاقی حکومت کی پوری ہمدردی متاثرین کے ساتھ ہے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے سماجی تحفظ کے ادارے ،پاک فوج ، ریلیف اور ریسکیو ادارے متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین این ڈی ایم اے کے ساتھ ملکر اس بات کا تعین کریں کہ وفاقی حکومت اور کیا مدد کرسکتی ہے اور کون کون سے مزید اداروں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں وزیراعظم عمران خان کشمیریوں کے سفیر بنے ہوئے نظر آئے ، وہ کشمیر کاز کو دنیا کے سامنے رکھ کر ان کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں ۔چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا کہ ریسکیو اور ریلیف کے آپریشن تقریبا مکمل ہورہے ہیں ،اب بحالی اور متاثرین کی مستقل آباد کاری کے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ زلزلہ میں جاں بحق ہونے والوں کے لئے معاوضہ کسی بھی جانے والی جان کا مداوا نہیں ہے لیکن کچھ مدد ضرور ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ متاثرین زلزلہ کی مکمل بحالی تک حکومت پاکستان اور این ڈی ایم اے کو اپنے ساتھ پائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے یقین دہانی کراتے ہیں کہ حکومت آزاد کشمیر جو بھی پیکیج لیکر آئے گی ہم اس سے آگے جائیں گے ۔

سورس: وی این ایس، اسلام آباد