مقبوضہ کشمیر سے متعلق پاکستانی بیانیہ کوبین الاقوامی قوانین اور عالمی برادری تسلیم کرتی ہے ؛ماہرین

0
153

اسلام آباد،07نومبر(اے پی پی ):مسئلہ کشمیر پر تیسرے آپشن اور جلاوطن حکومت کی تشکیل کی سوچ کو رد کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود احمد خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہی نکالا جا سکتاہے اور جلاوطن حکومت کی تشکیل سے آزاد کشمیر کی حکومت کمزور ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی بھی حل کشمیری عوام کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے یہ بات بین الاقوامی قوانین پر تحقیق کے ادارے آرایس آئی ایل کے زیراہتمام ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سیمینار سے وفاقی وزیرانسانی حقوق ڈاکٹرشیریں مزاری، ریسرچ سوسائٹی برائے بین الاقوامی قوانین کے سربراہ احمر بلال صوفی ، دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل رضا محمد، آر ایس آئی ایل کے ایگزیکٹیو دائریکٹر جمال عزیز اور ڈائریکٹر اویس انور نے بھی خطاب کیا۔

سردار مسعود احمد خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری قتل عام کا نوٹس لینا بنیادی طور پر اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کا فرض ہے۔ بھارت سالہاسال سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسترد کرتا آرہاہے اور مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کے مبصرین کی موجودگی کو برداشت کرنے کے لئے بھی تیار نہیں، حالانکہ وہاں انسانیت کے خلاف اور جنگی جرائم روز کا معمول بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان کشمیر کی صورت حال پر تقریباً خاموش ہیں حالانکہ آج اگر کشمیر پر بات نہیں ہوگی تو کیا قتل عام کی تکمیل کے بعد ہوگی؟

انہوں نے کہا کہ ایسے محسوس ہوتا ہے گویا عالمی برادری نے کشمیریوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے لیکن کشمیری نوجوان اس صورت حال پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ وہ اپنے گھر کی حفاظت، اپنی جان اور آبرو کی حفاظت کے لئے اب عالمی برادری کی بجائے اپنے زور بازو پر بھروسہ کررہا ہے اور بین الاقوامی قوانین اس کو حق دیتے ہیں کہ وہ اپنے دفاع کے لئے اٹھ کھڑا ہو۔

اس سے قبل وفاقی وزیرانسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ یہ قوانین نہ صرف پاکستان اور کشمیریوں کے موقف کو تقویت دیتے ہیں بلکہ بھارتی موقف کی دھجیاں اڑاتا ہے۔ حق خود ارادیت کی قانونی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اقوام متحدہ کاچارٹر، جنیوا کنوینشنز، مشرقی تیمور اور سوڈان کی تقسیم جیسی ان گنت شہادتیں ہیں جو کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تقویت دیتی ہیں۔پاکستان کو چاہئے کہ دفتر خارجہ میں بین الاقوامی قوانین سے متعلق ایک الگ ڈویژن تشکیل دے۔ دنیا بھر کے لوگ ہمیں سننے کے لئے تیار ہیں لیکن ہمیں اپنا بیانیہ ان کی سمجھ اور بین الاقوامی قوانین کے کے مطابق تشکیل دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ادارہ اطفال یونیسف نے حال ہی میں کیمرون میں بچوں کے سکول نہ جانے سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ یونیسف کو ایک غیرجانبدار ادارہ ہونا چاہئے لیکن اس رپورٹ میں کشمیری بچوں کا کوئی ذکر نہیں جو گزشتہ تین مہینوں سے اپنے گھروں میں محصور ہیں۔ پاکستان کو اس بارے میں یونیسف سے باقاعدہ احتجاج کرنا چاہئے۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں احمر بلال صوفی نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین سے کشمیر پر پاکستانی موقف کو بے پنا تقویت ملتی ہے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے گویا پاکستان اس بارے میں بین الاقوامی قوانین سے مناسب فائدہ نہیں اٹھا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حال ہی میں بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں مسئلہ کشمیر پر ایک کتابچہ شائع کیا ۔ پہلے ایک گھنٹے میں نو سو لوگوں نے اس کتابچہ کو ڈاﺅن لوڈ کیا۔ زیادہ تر ڈاﺅن لوڈنگ امریکہ اور یورپ میں ہوئی ۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ دنیا بین الاقوامی قوانین کی زبان میں ہماری بات سننے کے لئے آمادہ ہے۔ احمربلال صوفی نے کہا کہ تیرہ نومبر کو بھارتی سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 370 کی کشمیر تک توسیع کے خلاف مقدمہ کی سماعت ہورہی ہے۔ پاکستان کو چاہئے کہ اس سماعت میں اپنے نمائندے کی موجودگی یقینی بنائے۔ اس سے ہمیں بھارتی ذہن پڑھنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پلوامہ اور ابھی نندن کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھارت نے فوجی ذرائع کی بجائے بین الاقوامی قوانین کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ پانچ اگست کے اقدام کے بعد بھارتی بیانیہ کمزور پڑ گیا ہے اور پاکستان کے لئے سنہری موقع ہے کہ بین الاقوامی قوانین کو بھارت کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرے۔

سورس: وی  این ایس ، اسلام آباد