وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس 

0
35

کراچی،21نومبر(اے پی پی ): وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس  منعقد ہوا جس میں  یہ فیصلہ  کیاگیا کہ  پلے بارگین /وی آر  میں ملوث فلور ملیں اور  سندھ حکومت کی بقایاجات  کے  ڈیفالٹرز اور بند پڑی فلور ملوں اور چکیوں کو گندم کا کوٹہ دینے پر  پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیاہے۔صوبائی حکومت نے  گندم /آٹے کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے لیے پاسکو سے گندم خرید نے اور  فلور ملوں کو سبسڈی ریٹ 3450 روپے فی سو کلو گرام بوری گندم کا کوٹہ  جاری کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔

کابینہ نے فیصلہ کیا کہ گندم فعال فلور ملوں کو باڈی فارمولا کے تحت جاری کی جائے گی اور چکیوں کو اسٹون فارمولا کے تحت ۔گندم پلے بارگین/وی آر  حکومتی بقایاجات کے ڈیفالٹرز اور بند پڑی ملوں /چکیوں کو جاری نہیں کی جائے گی،ڈیفالٹرز کو  اُن کے بقایاجات  کی ادائیگی کے لیے  15 دن دیئے گئے ہیں  اس کے بعد وہ کوٹہ حاصل کرسکیں گے۔ فعال فلور ملوں کے مالکان کو مل چلانے کے حوالے سے اپنے ملوں کے بجلی کے بل دکھانا ہوں گے۔ ملیں  جو کہ اپنا کوٹہ حاصل کریں گی اور نہیں چلے گیں اُن پر جرمانہ بشمول  حکومت کی جانب سے گندم پر کی جانے والی سبسڈی کی ادائیگی عائد کیاجائے گا۔

کابینہ نے سندھ ہندو میرج(ترمیمی) ایکٹ 2018 کے قواعد کی منظوری دی جس کے تحت شادی کے کیسز کی کا ٹرائیل فیملی کورٹ میں ہوگا۔ کابینہ نے  سندھ امپلائز سوشل سیکوریٹی  بل 2016 کے قواعد کی بھی منظوری دی۔

 

وی این ایس ،  کراچی