پاک ترک معارف سکول بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کو پروان چڑھانے کیلئے کردار ادا کررہے ہیں: قاسم خان سوری

0
30

کوئٹہ،09نومبر (اے پی پی): ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے پاک ترک معارف سکول اینڈ کالجز بلوچستان میں

اعلیٰ تعلیم کو پروان چڑھانے کیلئے اپنا اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اساتذہ کی محنت ولگن سے ان کے بچے پورے پاکستان میں قوم کی خدمت کریں گے۔

 ان خیالات کا اظہار ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے پاک ترک معارف بین الاقوامی سکول اینڈ کالجز کی سالانہ تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں اور بچوں کا مستقبل سنوارنے میں پاک ترک سکول کاکر دار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔اسی تعلیمی ادارے سے فارغ ہونے کے بعد نوجوان پورے پاکستان میں بلوچستان اور قوم کا نام روشن کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کوئٹہ کے نوجوانوں میں قابلیت کی کوئی کمی نہیں، انہیں صرف آگے لے جانے کی ضرورت ہوتی ہے جو پاک ترک معارف سکول اینڈ کالج اس حوالے سے اپنا بخوبی کردار ادا کررہے ہےں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کی دوستی بے مثال ہے۔ ترکی نے ہر مشکل گڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے ۔ اقوام متحدہ میں بھی ترکی نے پاکستان کے موقف کی بھرپور تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ ترک قوم ایک عظیم قوم ہے۔ ترک ایک مہذب ملک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو ملک ایجنڈے پر چلتے ہےں وہ ترقی کرتے ہےں ۔ ترک ایک آزاد خود مختار ملک ہے۔ ترک صدر طیب ایردگان اور وزیراعظم عمران خان آپس میں بہترین دوست ہےں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت ملک سے غریب امیر کے فرق کا خاتمہ کردے گی۔ بہتر مستقبل کے لئے نوجوانوں کو سکالر شپ دیں گے۔

ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ تعلیم کے لحاظ سے پیچھے تھے لیکن حکومتی کوششوں کے ساتھ ساتھ پاک ترک جیسے ادارے کی وجہ سے آج بلوچستان اور کوئٹہ کا نوجوان آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ پاک ترک جیسے تعلیمی ادارے کی بدولت بلوچستان اور کوئٹہ کے نوجوان دنیا کے ہر کونے میں ملک و قوم کا روشن کرسکتے ہےں۔

قبل ازیں پاک ترک معارف انٹرنیشنل سکول اینڈ کالجز کے طلباءو طالبات نے مختلف ٹیبلوآئٹمز پیش کئے،جن کو پنڈال میں بیٹھے حاضرین نے بہت سراہا،جبکہ ادارے کے ڈائریکٹرحسین دلعت نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مہمانوں اورحاضرین کا شکریہ ادا کیا اور ادارے کی مجموعی کارکردگی پر روشنی ڈالی۔

سورس: وی این ایس/ڈیسک/ کوئٹہ