قائمہ کمیٹی برائے مواصلات  کی بابو سر ٹاپ سڑک کی تعمیر  کیلئے  حاصل کی گئی زمین کی غیر ادائیگیوں کا نوٹس

0
41

اسلام آباد، 02 دسمبر(اے پی پی ): ایوان بالاءکی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہدایت اللہ نے  کاغان سے بابو سر ٹاپ سڑک کی تعمیر کےلئے حاصل کی گئی زمین کی غیر ادائیگیوں کا نوٹس لیا  اور کمیٹی کی طرف سے دی جانی والی ہدایات کو دہ ماہ گزر جانے کے باوجود اب تک عملدرآمد  نا ہونے پر ادارے کے غیر سنجیدہ رویے کی مذمت کی۔

پیر کو  ہونے والی کمیٹی  کے اجلاس میں سی پیک مشرقی و مغربی اور مشترکہ راستوں پر پروگریس رپورٹ ، نیو اسلام آباد انٹر نیشنل ایئر پورٹ ، میٹرو بس منصوبہ میں تاخیر سے متعلق تفصیلی بریفنگ کے علاوہ کاغان سے بابو سرٹاپ سٹرک کی تعمیر کےلئے حاصل کی گئی زمین کے مالکان کوادا نہ کی جانے والی ادائیگیوں اورخضدار شادادکوٹ کے گوادر رتوڈیرو روڈ پر M-8 سکیشن کی تعمیر پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیاجس میں منصوبے کی موجودہ صورتحال ، منصوبے پر لاگت ، فنڈز کی تفصیلات، منصوبے پر تاخیر کی وجوہات اور تاخیر سے نمنٹنے کےلئے اٹھائے گے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔

سینیٹر لیفٹینٹ جرنل(ر) صلاح الدین ترمذی نے تین ہزار متاثرین کو 17سال گزر جانے کے بعد بھی زمین کی ادائیگیاں نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ معاملہ کو سپریم کورٹ تک لے کر جائیں گے تاکہ زمین مالکان کو انصاف فراہم کیا جا سکے ۔ چیئرمین این ایچ اے نے معاملہ کو جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔کمیٹی نے وزارت مواصلات اور این ایچ اے کو ایک ہفتے کے اندر معاملہ حل کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ رولز کے مطابق سینیٹ قائمہ کمیٹی کی ہدایات اور ایوان بالاءکی رپورٹ ایڈاپٹ کرنے کے بعد این ایچ اے اور وزارت مواصلات متاثرین کو ادائیگیاں کرنے کے پابند ہےں اور وہ ایک ہفتے کے اندر ادائیگیوں کا طریقہ کار اخذ کر کے کمیٹی کو واضع کریں اور جلد از جلد ادائیگیاں کر دی جائیں۔

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ میٹرو بس منصوبہ پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے کی لمبائی 25.6 کلو میٹر ہے اور منصوبے کا ڈیزائن اور تعمیراتی کام نیسپاک کے حوالے کیا گیا جس کے مطابق منصوبے کو 4 پیکجز میں تقسیم کیا گیا ۔پہلا پیکج پشاور موٹر سے نسٹ جس کی لمبائی 8.0 کلو میٹر ہے اس پر 96 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے اور نسٹ سے جی ٹی روڈ 3.8 کلو میٹر پر88 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ جی ٹی روڈ انٹر چینج سے موٹر وے انٹر چینج تک اور موٹر وے انٹر چینج سے نیو اسلام آباد ایئر پورٹ تک کا100 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ پیکج ٹو کا کام فروری 2020تک مکمل کر دیا جائے گا ۔

خضدار شادادکوٹ کے گوادر رتوڈیرو روڈ پر M-8 سیکشن کی تعمیر پر بریفنگ دیتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ فنڈز کی کمی کے باعث منصوبہ ابتک مکمل نہیں کیا جا سکا کمیٹی کو مذید بتایا گیا کہ M-8منصوبے کےلئے 2017-18اور 2019-20میں پی ایس ڈی پی میں کوئی فنڈز مختص نہیں کئے گئے جبکہ ٹھیکیدار کے 77.5ملین بھی واجب الادا ہیں ۔

سی پیک مشرقی اور مغربی راستوں پر تفصیلی رپورٹ دیتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے کی تکمیل کےلئے ابھی 40سے 45بلین کے فنڈز کی ضرورت ہے جبکہ رواں مالی سال 11.5بلین مختص کئے گئے جس پر فنانس ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ اگر کوئی پروجیکٹ فاسٹ گروینگ ہے تو اُس کو اضافی فنڈزوزارت پلاننگ کی منظوری کے بعد فراہم کر دیئے جائیں گے ۔

کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز احمد خان ، سید محمد صابر شاہ ، لیفٹینٹ جرنل (ر) صلاح الدین ترمذی ، فدا محمد، گیان چند، یوسف بادینی کے علاوہ سیکرٹری وزارت موصلات ، چیئرمین این ایچ اے کے علاوہ متعلقہ اداروں کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

و ی  این ایس،  اسلام آباد

Download Video