ملک کا روشن چہرہ اجاگر کرنے، قومی بیانیے کے فروغ کیلئے  قومی خبر رساں ادارہ” اے پی پی “اہم کر دارکا حامل ہے: ڈاکٹر فردوس

159

اسلام آباد ، 25 دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے 2020 کو ملک کی تعمیرو ترقی، معاشی استحکام اور ریلیف کا سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 23سال مسلسل جدوجہد کے بعد پاکستان کو استحکام پاکستان کے سفر پر گامزن کر دیا ہے ، وہ روایتی سیاستدان نہیں بلکہ ایک مقبول لیڈر ہیں جو ذاتی فائدہ کی بجائے قومی مفاد کا سوچتے ہیں۔انہوں نے  کہا کہ دنیا کے سامنے ملک کا مثبت تشخص و روشن چہرہ اجاگر کرنے اور قومی بیانیے کے فروغ کے لئے قومی خبر رساں ادارہ” اے پی پی “اہم کر دارکا حامل ہے، عمران خان کے ویژن کے مطابق اے پی پی کو ایسا ادارہ بنائیں گے کہ دنیا بھر کے خبر رساں ادارے اسے رول ماڈل قرار دے کر اس کی تقلید کریں گے ۔

 وہ بدھ کو نیشنل لائبریری میں قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی)کی تقسیم ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کررہی تھیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید، ایم ڈی اے پی پی ڈاکٹر طارق محمود خان، پی آئی او رائے طاہر حسن، ایگزیکٹو ڈائریکٹر غواص خان، نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل قرار،پی ایف یو جے کے سابق صدر افضل بٹ بھی تقریب میں موجود تھے ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے قائداعظم محمد علی جناح کے یوم ولادت اور دنیا بھر کی مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے ہمیشہ کام ،کام اور کام پر زور دیا ،ان کی ولولہ انگیز قیادت اور کمٹمٹ سے پاکستان نے اپنا سفر شروع کیا، پاکستان میں ہمیشہ اقلیتوں کو تحفظ اور بنیادی حقوق حاصل رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے عزم کے ساتھ اصلاحاتی ایجنڈے کے ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات کی حمایت جاری رکھتے ہوئے نئے پاکستان کی بنیاد رکھی ہے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ جو شخص ذات کی نفی کرتے ہوئے ایک مقصد کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے وہ اللہ تعالی کی طاقت سے چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کردیتا ہے، آج بہت ہی تاریخی اور اہم دن ہے یہ دن ایک عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش ہے ،اسی دن دنیا بھر میں مسیحی برادری کرسمس کا تہوار مناتی ہے جبکہ یہ دن اے پی پی کی تاریخ میں بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے جب وہ نئی شروعات کر رہا ہے اور موجودہ دور کے تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ کرنے کے لئے خصوصی اقدامات اٹھا رہا ہے، اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے صحافیوں اور دیگر کارکنوں و عملے کی حوصلہ افزائی کے لئے ایوارڈ کا اجراءایک خوش آئند امر ہے۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات نے کہا کہ اگر لیڈر کا غیر متزلزل عزم ہو تو قائداعظم کی صورت میں چند ساتھیوں کے ساتھ حقیقی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، قائداعظم نے جس طرح ناممکن کو ممکن بنایا اسی طرح عمران خان نے بھی قیام پاکستان کے 72سال بعد اپنی 23سالہ جدوجہد کے بعد پاکستان کو استحکام پاکستان کی جانب گامزن کرنے میں کامیابی حاصل کی، وہ 23سال قانون کی حکمرانی اور میرٹ کی بالادستی کی بات کرتے رہے اور قائد کے حقیقی پاکستان کے لئے روایتی سیاسی ڈھانچے کو پاﺅں کی ٹھوکر سے ملیا میٹ کر دیا اور لوٹ مار کی سیاست کرنے والوں کو بھی دفن کر دیا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ قائداعظم کے افکار اور نظریات ہمیشہ یہ ہی تھے کہ ادارے با اختیار ہوں، قانون اور آئین کی حکمرانی ہو اورایمان ،اتحاد ،تنظیم اور یقین محکم کا درس دیا، وزیراعظم عمران خان قائد کے پاکستان کے خواب کی تعبیر کے لئے دن رات خدمت کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان نے صرف سیاست کرنی ہوتی تو وہ بھی پانچ سال کا ٹائم آسانی سے گزار سکتے تھے ،چوروں ،لٹیروں اور ڈاکوﺅں کو کھلی چھوٹ دیتے ، کسی سے نہ پوچھتے تو سب اچھا کی خبر ہر طرف سے آتی لیکن انہوں نے اپنے ذاتی مفاد کی بجائے قومی مفاد کو ترجیح دی کیونکہ انھیں اسی لئے عوام نے ووٹ دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایم ڈی اے پی پی کی خصوصی کاوشوں سے اے پی پی کی ڈیجیٹلائزیشن ، جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی اور ترقی کے لئے اقدامات اٹھانا قابل تحسین امر ہے ، قومی خبر رساں ادارے کی دنیا بھر کی نیوز ایجنسیز کے ساتھ رابطے کرانے کے سفر پر گامزن ہیں ،اس ادارے کو مکمل پیشہ وارانہ ادارہ بنانے کے ساتھ ساتھ قابل اور اہل سٹاف ممبران کو آگے بڑھنے کے مزید بہتر مواقع فراہم کیے جائیں گے ۔

ایم ڈی اے پی پی ڈاکٹر طارق محمود خان نے کہا کہ تین دہائیوں سے دنیا میں میڈیا کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں آرہیں ہیں ،اے پی پی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ،ڈیجٹیلائزیشن ، سوشل میڈیا اور دیگر شعبوں میں جدت لائی جارہی ہے ،اے پی پی کے صحافیوں کے معمول کے ساتھ تربیت پر بھی توجہ دی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح ہے کہ حکومت کے نمایاں اقدام، پریس کانفرنسز ،ایونٹس کی خبروں کی فوری طور پر ترسیل کے تمام مراحل کو جدید تکنیکس کے زریعے مکمل کیا جائے اس کے لئے ایک سافٹ ویئر بھی تیار کر لیا گیا ہے ،انگلش رپورٹنگ کے لئے اس سافٹ وئیر پر کامیابی سے کام جاری ہے ۔

ڈاکٹر طارق محمود خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہدایات پر ادارے میں ڈیٹا بیس کی تیاری ،ای فائلنگ اور نیو بزنس ماڈل پر تیزی سے کام جاری ہے ، اے پی پی ایچ نائن میں میڈیا سٹی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے اس پر بھی ہوم ورک جاری ہے ،اے ایف پی اور سی این این کو ون آن ون سروس فراہم کرنے جارہے ہیں ۔

اس موقع پروزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے افتخار حسین نقوی ، نجم الحسن ،نعیم خان نیاز ، سعیدہ ارم، ساجد فاروق ،فخر امام ، ارشاد شیخ ،امتیاز احمد ،عبدالقدوس ، شوکت علی چانڈیو، شکیل محمد ، ذین علی جاوید، شفقت اللہ خان ، عابد محمود چوہدری ، شیراز حیدر ،محمد شفیق ،علی حسن ، جاوید عارف ،غلام فرید ،شیخ عبدالرزاق ، یاسر عرفات اور شاہد احمد ناز کو اپنے اپنے شعبے میں اعلی کارکردگی پر ایوارڈز دیئے ۔

 اے پی پی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ قومی سطح پر ادارے کی رپورٹنگ اور ایڈیٹنگ سمیت مختلف شعبہ جات میں ان کی اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر انہیں ایواڈز سے نوازا گیا ہے۔ یہ ایوارڈز نہ صرف اے پی پی ہیڈ کوارٹرز بلکہ صوبائی سطح پر بھی تمام بیوروز اور سٹیشنز پر مختلف کیٹیگریز میں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے صحافیوں اور غیر ادارتی عملہ کو دیئے جائیں گے۔

وی  این ایس،  اسلام آباد

Download Video