اسلام آباد ، 17 دسمبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مصنوعی ذہانت، بلاک چین، روبوٹکس اور انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹیز) کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں اگلی دہائی انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز کے انقلاب کی دہائی ہو گی، اس کیلئے پاکستان کو ضروری اجزاءدرکار ہوں گے، اس حوالہ سے ملک کے صنعتی شعبوں کو بروقت تیاری کرنی چاہئے۔
وہ منگل کو یہاں ایوان صدر میں ایمرجنگ ٹیکنالوجیز کے بارے میں ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن خالد مقبول صدیقی اور ملک بھر سے آئی ٹی ماہرین نے شرکت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی جانب اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور چوتھے صنعتی انقلاب کی صورت میں بین الادارہ جاتی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل لحاظ سے تبدیلی کئی عناصر کی حامل ہے جن میں ڈیجیٹل شناخت، مشترکہ ڈیٹا سروسز، مشترکہ کاروباری طریقہ ہائے کار، ٹیکنالوجی مراکز اور سرکاری شعبہ میں ان کے استعمال کیلئے سہولیات فراہم کرنا شامل ہیں جبکہ اختراعی ایکو سسٹم کی تیاری بھی ایک اہم جزو ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ حکومت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبہ میں مختلف سٹارٹ اپس کے ذریعے جدت کے ماحول کو فروغ دینے کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ڈیجیٹل اکانومی کی ترقی میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کردار انتہائی اہم ہے، اس حوالہ سے مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہم تیز اور دیرپا نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان میں اگلی دہائی انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز کے انقلاب کی دہائی ہو گی جو مستقبل پر مبنی ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی حامل ہو گی، اس کیلئے پاکستان کو ضروری عناصر درکار ہوں گے جن میں انفراسٹرکچر، آئی ٹی اور ٹیلی کام کے شعبوں میں تعلیم یافتہ نوجوان افرادی قوت اور نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے والے لوگ شامل ہیں۔ اس سلسلہ میں حکومت کی ڈیجیٹلائزیشن بشمول ڈیجیٹل شناخت کی مشینیں اور ووٹنگ ٹیکنالوجی بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ اسی طرح سائبر آلات اور ایپس کو صحت، تعلیم، آبادی کی منصوبہ بندی، بائیو ٹیکنالوجی اور سکیورٹی کے شعبوں میں بھی بروئے کار لایا جانا چاہئے۔
صدر مملکت نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جدید دنیا کے تمام شعبوں میں شامل ہو رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے اور اندازہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں نے 2016ءمیں اس شعبہ میں 20 سے 30 ارب ڈالر خرچ کئے ہیں جس میں سے 90 فیصد تحقیق و ترقی اور 10 فیصد مصنوعی ذہانت کے حصول پر خرچ کئے گئے ہیں۔ اسی طرح بلاک چین کے حوالہ سے سرکاری شعبہ میں استعمال کے 10 صف اول کے کیسز میں ڈیجیٹل کرنسی پیمنٹ، لینڈ رجسٹریشن، ووٹنگ (الیکٹرانکس)، آئیڈینٹیٹی مینجمنٹ، سپلائی چین، ہیلتھ کیئر، ووٹنگ (پراکسی)، کارپوریٹ رجسٹریشن، ٹیکسیشن اور ان ٹائٹلمنٹس مینجمنٹ شامل ہیں۔
و ی این ای، اسلام آباد