فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاﺅسنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ہاﺅسنگ اینڈ ورکس کو بریفنگ

0
100

اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی):  فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاﺅسنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی برائے ہاﺅسنگ اینڈ ورکس کو بریفنگ میں بتایا کہ بہارہ کہو ہاﺅسنگ سکیم کا فروری میں افتتاح کریں گے، 10 ہزار یونٹس پلاٹوں کی صورت میں ایک سال میں ڈیلیور کریں گے، کام تیزی سے جاری ہے۔ قومی اسمبلی کی قاِئمہ کمیٹی برائے وزارت ہاﺅسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس بدھ کو کمیٹی چیئرمین انجینئر محمد نجیب ہارون کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کو بریفنگ کے دوران فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاﺅسنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل وسیم حیات باجوہ نے کہا کہ بہارہ کہو ہاﺅسنگ سکیم کے منصوبہ کیلئے 6 ہزار کنال کا قبضہ لے لیا ہے اس طرح سیکم کیلئے مطلوبہ زمین پوری ہو گئی ہے۔ اب بہارہ کہو ہاﺅسنگ سکیم پر تیزی سے کام جاری ہے لہذا اگلے ماہ ہم بہارہ کہو ہاﺅسنگ سکیم کا افتتاح کرنے جا رہے ہیں۔ ڈی جی وسیم حیات باوجوہ نے کہا کہ بہارہ کہو گرین انکلیو پر بھی اب کام شروع کر دیا ہے۔ کمیٹی چیئرمین انجینئر ہارون نے کہا کہ آپ کی کارکردگی کو سراہتے ہیں لیکن ابھی تک پانچ سال میں ایک یونٹ بھی الاٹیوں کو نہ ملنا بھی اتھارٹی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ کمیٹی کے ارکان کے سوال پر فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاﺅسنگ اتھارٹی کے ڈی جی نے اپنے جواب میں بتایا کہ وزیراعظم نے جن سکیموں کا افتتاح کیا ہے ان میں سے دو سکمیوں پر کام شروع ہو چکا ہے اور باقی ماندہ سکیموں پر بھی ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے گا۔ وزرات ہاﺅسنگ اینڈ ورکس کے سیکرٹری عمران زیب نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ گلشن جناح کراچی میں سرکاری رہائشگاہوں پر قابضین کے خلاف ایکشن لیا ہے، اس ایکشن کی وجہ سے امن و امان کا معاملہ بھی بنا تھا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو لوگ نسل درنسل آباد ہیں ان کو نیا پاکستان ہاﺅسنگ منصوبے میں شامل کیا جائے۔ اس پر سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ منصوبے میں گلشن جناح کی تعمیر اور رہائشیوں کو بسانے کا منصوبہ شامل ہے۔ اسی طرح وزرات ہاﺅسنگ اینڈ ورکس کی چار سو اٹھاسی اسکیمیں فنڈز کا اجراءنہ ہونے کی وجہ سے رکی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ نے تین ارب 40 کروڑ منظور کئے ہیں جبکہ کابینہ ڈویژن نے ابھی تک فنڈز جاری نہیں کئے۔ کمیٹی رکن سیّد آغا رفیع اللہ نے کہا کہ حکومت اپنے ممبران کو سکیمیں دے رہی ہے تو اپوزیشن کو سکیمیں کیوں نہیں دی جا رہی ہیں۔ سیکرٹری برائے ہاﺅسنگ اینڈ ورکس نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم کو تجویز دی ہے کہ ہائی رائز عمارتیں بنائی جائیں، اب جہاں تین کنال کے گھر میں ایک آفسیر رہتا ہے تو جب تین کنال کے گھر پر ہائی رائز بلڈنگ بنے گی تو ایک کی بجائے کئی افسران کو رہائش ملے گی۔۔ ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری ہاﺅسنگ اینڈ ورکس نے بتایا کہ سرکاری گھر 17 ہزار ہیں جبکہ ویٹنگ لسٹ میں 26 ہزار لوگ ہیں۔

 اےپی پی/ظہیر/فاروق