عوام کے اعتماد کیلئے انشورنس کی شرائط کے متعلق پیشگی وضاحت کے ساتھ ساتھ مکمل آگاہی کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں: ڈاکٹر عارف علوی

156

اسلام آباد،7 جنوری (اے پی پی): صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک میں انشورنس انڈسٹری کے فروغ کیلئے مناسب مارکیٹنگ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے اعتماد کیلئے انشورنس کی شرائط کے متعلق پیشگی وضاحت کے ساتھ ساتھ مکمل آگاہی کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں، ہم نے دہشت گردی جیسے مسائل پر قابو پا لیا ہے، اب قومی تعمیر کے عمل سے گزر رہے ہیں، سب مل کر کام کریں گے تو ایک اچھا اور خوبصورت پاکستان فروغ پائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو انشورنس انڈسٹری کی اقتصادی نمو اور محتسب کے کردار کے موضوع پر سیمینار سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کا اہتمام ایکسپریس میڈیا گروپ اور جوبلی لائف انشورنس کمپنی لمیٹڈ کے اشتراک کیا گیا تھا۔ صدر مملکت نے انشورنس کے حوالہ سے اپنے تجربات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جانی و مالی نقصانات کے خطرات سے محفوظ رہنے کیلئے انشورنس کی اپنی اہمیت ہے تاہم اس حوالہ سے مسائل بھی درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر لوگ انشورنس پر اس طرح اعتبار نہیں کرتے جیسا ہونا چاہئے، اس کی وجوہات میں آگاہی کا نہ ہونا اور انشورنس کے نظام میں پیچیدگیاں شامل ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں لوگوں کو اپنی اشیاءاور کسانوں کو اپنی فصلوں کی انشورنس کی ضرورت ہے، یہ ایک بڑی مارکیٹ ہے تاہم اسے مکمل طور پر بروئے کار نہیں لایا جا سکا ہے، لوگ اپنی جان و مال کا تحفظ چاہتے ہیں، اس مقصد کیلئے انشورنس انتہائی سودمند ثابت ہو سکتی ہے، انشورنس انڈسٹری کو اس حوالہ سے مناسب مارکیٹنگ کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ حکومت نے ہیلتھ کارڈز کے ذریعے ملک کے غریب اور مستحق لوگوں کو صحت کی انشورنس فراہم کی ہے، اس کیلئے حکومت کے ساتھ ساتھ نجی شعبہ کے شراکت داروں اداروں کا کردار بھی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر معاشرے میں کرپشن کا امکان موجود رہتا ہے، ہیلتھ انشورنس کے عمل میں بدعنوانی کے انسداد کیلئے مناسب احتیاط اختیار کرنا ہو گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ محتسب کے ادارے تنازعات کے تیز تصفیہ کیلئے فعال کردار ادا کر رہے ہیں، لوگوں کو محتسب کے کردار کے بارے میں مکمل آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے انشورنس انڈسٹری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے اور انشورنس کے دائرہ کار کو بڑھانے کیلئے اس کے معاملات میں بہتری لانے، مارکیٹ کو وسعت دینے، مصنوعی ذہانت اور رسک مینجمنٹ پر توجہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے انشورنس کے کاروبار میں اخلاقی روایات کو مدنظر رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انشورنس کی شرائط کے حوالہ سے تمام نکات کی پیشگی وضاحت کرنی چاہئے۔ انہوں نے میڈیا کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا صحت کے مسائل، خواتین کے حقوق، منشیات، صفائی ستھرائی اور غذائی قلت کے مضمرات کے بارے میں عوام کو آگاہی فراہم کرے۔ صدر مملکت نے کہا کہ قومیں ایسے ہی نہیں بنتیں، اس کیلئے تمام طبقات اور شعبوں کو اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا پڑتا ہے، ذمہ دار ممالک اپنے لوگوں کی آگاہی کا اہتمام کرتے ہیں، اس حوالہ سے یہاں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے، ہم نے دہشت گردی جیسے مسائل پر قابو پا لیا ہے، اب قومی تعمیر کے عمل سے گزر رہے ہیں، سب مل کر کام کریں گے تو ایک اچھا اور خوبصورت پاکستان فروغ پائے گا۔ قبل ازیں وفاقی انشورنس محتسب ڈاکٹر خاور جمیل نے اپنے خطاب میں محتسب کے ادارہ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انشورنس سے متعلق معاملات اور انشورنس محتسب کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انشورنس انڈسٹری فروغ پا رہی ہے، اس شعبہ کی ترقی تمام شراکت داروں کے حقوق کے تحفظ سے ہی ممکن ہے۔ انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین محمد حسین، جوبلی لائف انشورنس کے زاہد برکی اور ایکسپریس میڈیا گروپ کے سی ای او اعجاز الحق نے بھی سیمینار سے خطاب کیا۔

وی این ایس اسلام آباد

Download video