ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز اور انسانی وسائل کی ترقی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹرہلال الرحمن کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد

0
44

اسلام آباد،13 فروری  (اے پی پی )؛ء ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز اور انسانی وسائل کی ترقی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹرہلال الرحمن کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں مہران ٹاؤن کراچی میں سمندر پار پاکستانیوں کے پلاٹوں پر غیر قانونی قبضے کے حوالے سے ذیلی کمیٹی کی رپورٹ، وزارت سمندر پار پاکستانیز سے اورسیز پاکستانیوں کے سہولیات، حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بننے والی ڈرافٹ پالیسی کے علاوہ وزارت سمندر پار پاکستانیز اور خارجہ امور سے چین میں کرونا وائرس کے حوالے سے پاکستانی طلباء و طالبات کے مستقبل کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا

قائمہ کمیٹی کو ڈی جی وزارت خارجہ امور اور سیکرٹری وزارت سمندر پار پاکستانیز نے چین میں پڑھنے والے طلباء طالبات کے مستقبل کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ چائنہ میں 100ملین لوگ متاثر ہوئے ہیں دو شہر چائنہ کے حساس ترین ہیں جن میں ایک ہزار پاکستانی طلباء پھنسے ہوئے ہیں دونوں شہروں کو مکمل طور پر لاک ڈاون کیا گیا ہے۔کمیٹی کو بتایاگیا کہ چائنہ کے متعلقہ حکام سے مکمل رابطے میں ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سمندر پار مقیم پاکستان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں وہ پاکستان کیلئے خاصہ زر مبادلہ بھیجتے ہیں اُن کے مسائل حل کرنا ہمارا اولین فرض ہے ۔قائمہ کمیٹی کو اورسیز پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ اور ریلیف دینے کے حوالے سے نئی ڈرافٹ پالیسی بارے آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پہلی دفعہ ایسی پالیسی بنائی گئی ہے۔ سینیٹر شاہین بٹ نے کہا کہ او پی ایف کے سکولوں کو کیڈیٹ کالج بنانے سے مزید بہتری آ سکتی ہے۔چیئرمین کمیٹی نے بیرون ممالک مزدوروں کے مسائل کو موثر انداز میں حل کرنے کے حوالے سے زور دیتے ہوئے کہا کہ سفارتخانوں کو خطوط لکھے جائیں اور سفارتخانوں میں قائم عملہ کی کارکردگی بہتر کرائی جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت96 لاکھ افراد بیرون ممالک خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

آج کے اجلاس میں سینیٹرز نگہت مرزا، نجمہ حمید، سسی پلیجو، شاہین خالد بٹ، مولوی فیض محمد، ذیشان خانزادہ اور مرزا محمد آفریدی کے علاوہ سیکرٹری وزارت سمندر پار پاکستانیز،ڈی جی وزارت خارجہ امور،نمائندہ چیف سیکرٹری سندھ اور کے ڈی اے کے حکام نے شرکت کی۔

اے پی پی /سحر/ریحانہ