ایوان بالا کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یا فتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس

0
41

اسلام آباد 10فروری (اے پی پی): ایوان بالا کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یا فتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔

فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں 16مئی 2017کو منعقد ہونے والے کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کے علاوہ ملک میں فٹبال کھیل کے فروغ اور خاص طور پر پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں نظر انداز کرنے، چمن، کوئٹہ اور پشاور میں فٹبال اسٹیڈیم اور فٹبال اکیڈمیز قائم کرنے،پی ایس ایل کی طرح فٹبال کیلئے کوئی سپر لیگ کے پروگرام اور ملک کے پسماندہ علاقوں میں فٹبال کے فروغ کیلئے منصوبہ بندی، پی ایس ایل میں پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو شامل نہ کرنے، ڈومسٹک اور روایتی کھیلوں کا پسماندہ علاقوں میں فروغ کے علاوہ پاکستان سپورٹس بورڈ کے مستقل کنٹریکٹ اور ڈیپوٹیشن،

وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ ملک میں کھیلوں کے فروغ کیلئے موثر اقدام اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کے حوالے سے ہر پہلو کو مدنظر رکھا جائے مگر بد قسمتی کی بات ہے کہ صوبے این ایف سی کا 10فیصد پسماندہ علاقوں پر خرچ نہیں کرتے سپورٹس فیڈریشنز آزاد ادارے بن چکے ہیں اور سپورٹس میں اس مافیا نے جتنا نقصان پہنچا یا ہے اُس کی مثال نہیں ملتی اب ایک نارملائزڈ کمیٹی بنی ہے جو معاملات کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں اور فیڈریشنز سے پوچھا جائے کہ پسماندہ علاقوں میں کھیلوں کے فروغ کے لئے کیا اقدام اٹھائے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑنے کہا کہ پشاور اور کوئٹہ میں کرکٹ اکیڈمیز بنانے کی سفارش کی گئی تھی مگر اُس پر عملدرآمد نہیں کیا۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کمیٹی کو بتایا  کہ پاکستان اولپک اسوسی ایشن کی نااہلی کی وجہ سے سیف گیمز اور نیشنل گیمز میں فٹبال سمیت دیگر کھیلوں کو بھی شامل نہیں کیا گیاحالانکہ پاکستان کی فٹبال ٹیم اس خطے کی بہترین ٹیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں قائم  فیڈریشنز بیرونی فنڈنگ حاصل کرکے کے اپنے آپ کو جوابدہ نہیں سمجھتی جس پرچیئرمین کمیٹی سینیٹرمحمد عثمان خان کاکڑ نے فیفا سے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملنے اور خرچ ہونے والے فنڈنگ کی تفصیلات طلب کر لی۔ فنکشنل کمیٹی کو بتایا گیا کہ فٹبال اسوسی ایشن کا گزشتہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا رہا کرکٹ ٹیم میں کھیلاڑیوں کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے اور ملک بھر میں ٹورنامنٹ کر ا کر ٹیلنٹ کو اجاگر کیا جائے۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں کھیلوں کے فروغ کیلئے پورے اسٹکچر کا جائزہ لیا جا رہا ہے ماضی میں سیاسی بنیادوں پردھڑا دھڑ بھرتیاں کی گئی جس کی وجہ سے انفراسٹکچر کی بجائے تنخواہوں کی مد میں بجٹ ختم ہو جاتا ہے۔پاکستان اسپورٹس بورڈمیں 472مستقل 7کنٹریکٹ پر ملازمین ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے پی ایس بی میں صوبائی کوٹے کے مطابق بھرتیاں نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کوٹے کے مطابق صوبوں کی بھرتیاں مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ چیئرمین کمیٹی نے سیف گیمز اور نیشنل گیمز میں فٹبال و دیگرڈومسٹک کھیلوں کو شامل نہ کرنے پر سخت برہمی کے اظہار کرتے ہوئے بہتری کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کر دی۔

کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز سردار محمد شفیق ترین اور گیان چند کے علاوہ وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ علی محمد شہزادہ، ڈائریکٹر ڈومسٹک کرکٹ ہارون رشید، قائم مقام جنرل سیکرٹری فیفا و دیگر حکام نے شرکت کی۔

وی این ایس اسلام آباد

Download Video