ملک میں   کاٹن   کی پیدوار  بڑھانے کیلئے  وزیر اعظم  ایمرجنسی  پروگرام  شروع کر  رہے ہیں:علی محمد خان کا قومی  اسمبلی اجلاس میں  اظہار خیال

0
35

اسلام آباد،12 فروری (اے پی پی ): قومی اسمبلی اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا،اجلاس  کے دوران  وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان  نے قومی  اسمبلی کو  بتایا  گیا کہ  ملک میں   کاٹن   کی پیدوار  بڑھانے کیلئے  وزیر اعظم  ایمرجنسی  پروگرام  شروع کر  رہے ہیں ۔

قومی اسمبلی  میں وقفہ سوالات میں سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ملک میں کاٹن کی کاشت کا رقبہ کم ہورھا ہے۔ ملک میں کاٹن کی پیداوار میں کمی آرہی ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ  کاٹن کی شرح پیداوار بڑھانے کے لئے ضروری اقدامات کئے جارہے ہیں۔علی محمد خان نے کہا بہت سے کاٹن کی کاشت کے علاقوں میں شوگر ملز لگ گئی ہیں جس کی وجہ سے کاشتکار کاٹن کی جگہ کماد کا شت کر رہے ہیں، کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے تراغیب دی جائیں گی، اس حوالے  سے حکومت مزید اقدامات کر رہی ہے۔

اسپیکر نے کاٹن کے کاشتکاروں کے مسائل اور ان کے حل کا معاملہ کمیٹی کو بھیجوا دیا۔

وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹری  ڈاکٹر نوشین حامد نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا  کہ پمز  اسپتال میں مدر اینڈ چائلڈ وارڈ میں جائکہ کی مدد سے توسیع کا عمل جاری ہے۔  جس سے بچوں اور عورتوں کو مزید سہولیات دی جائیں گی۔ انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا اس وقت پمز کے مختلف شعبوں میں 86 وینٹی لیٹر موجود ہیں اور سب کے سب فعال ہیں۔ چلڈرن وارڈ اور آئی  سی یو  وادڈ میں 21 بستر ہیں اور کارڈیک آئی سی یو وارڈ میں 11 بستر ہیں اور انہیں وینٹی لیٹرز سے آراستہ کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ کینسر کے علاوہ زندگی بچانے والی تمام ادویات اسپتالوں میں فراہم کی جا رہی ہیں ۔ لہذا یہ تاثر درست نہیں کہ زندگی بچانے والی ادویات کی اسپتالوں کو فراہمی بند کر دی گئی ہے ۔

ڈاکٹر نوشین حامد پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت نے ایوان کو آگاہ کیا صحت کارڈ کے حوالے جن صوبوں نے وفاق کے ساتھ تعاون کیا،وہاں پر جاری کیا گیا ہے۔سندھ حکومت صحت کارڈ کے حوالے تعاون نہیں کررہی ہے۔سندھ میں 36 لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔سندھ حکومت کے جواب کے مطابق ان کو اس کی ضرورت نہیں ہے،صوبہ سندھ سے مثبت جواب اور تعاون کے بغیر وہاں صحت کارڈ دینا ممکن نہیں ہے۔

اجلاس کے آغاز میں  اسپیکر اسد قیصر نے نے سیکرٹری  قومی اسمبلی کو گیلری میں موجود سرکاری افسران کی حاضری چیک کرنے کی ہدایت کرتےہوئے  کہا جو افسران غیر حاضر ہیں ان کے بارے میں پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو لکھیں۔  انہوں نے کہااس کے بعد دیکھیں گے کہ ان افسران کا کیا کرنا ہے۔ اسپیکر اسد قیصر نے ہدایت کہ جائنٹ سیکرٹری سے کم لیول کا افسر اجلاس میں موجود نہ ہو ۔ اس درجہ سے کم افسران کے بارے میں وزیر اعظم سیکٹریٹ کو لکھیں ۔

وی این ایس ، اسلام آباد

Download Video