وزیرِاعظم کی کارٹیلز اور ناجائز منافع خوری کا سبب بننے والے عناصر کیخلاف ایکشن پر بھرپور توجہ دینے کی ہدایت

0
157

اسلام آباد ، 28 فروری (اے پی پی) وزیرِاعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ کارٹیلز اور ناجائز منافع خوری کا سبب بننے والے عناصر کے خلاف ایکشن پر بھی بھرپور توجہ دی جائے تاکہ عوام کو چوری، سسٹم کی کوتاہیوں اور استحصال سے بچایا جا سکے، سبسڈی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ رقم متعلقہ افراد اور متعلقہ مقصد کےلئے فائدہ مند ثابت ہو۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت جمعہ کو کم آمدنی اور کمزور طبقوں کو ریلیف کی فراہمی کےلئے مختلف شعبوں میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی کے اثرات کے جائزہ کا اجلاس منعقد ہوا۔

 اجلاس میں توانائی، خوراک، فرٹیلائزر زکے شعبہ میں حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سبسڈی کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے احساس پروگرام، برآمدات میں اضافہ کےلئے مختلف شعبہ جات اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کےلئے حکومت کی جانب سے گذشتہ اور رواں مالی سال میں فراہم کی جانے والی رقوم کا حجم اور اس کے استعمال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی کا بنیادی مقصد عوام اور خصوصاً کمزور اور کم آمدنی والے طبقہ کو ریلیف پہنچانا، صنعتوں کا فروغ اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں سہولت فراہم کرنا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ توانائی کے شعبہ میں مجموعی طور پر 251 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جارہی ہے، 300 سے کم یونٹس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کےلئے کم قیمت پر بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے حکومت کی جانب سے اس سال 162 ارب روپے کی سبسڈی رکھی گئی ہے، بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلوں کےلئے ساڑھے 8 ارب روپے جبکہ انضمام شدہ علاقوں کے عوام کےلئے 18 ارب روپے فراہم کئے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آزاد جموں و کمشیر اور کے الیکٹرک کےلئے بالترتیب 3 ارب اور 25 ارب روپے فراہم کئے جا رہے ہیں۔ صنعتی شعبہ کو مناسب قیمت پر بجلی کی فراہمی کےلئے 10 ارب روپے جبکہ گیس کی فراہمی کی مد میں 24 ارب روپے مہیا کئے جا رہے ہیں۔ گندم اور آٹے کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کےلئے بھی حکومت کی جانب سے اربوں روپے سبسڈی کی مد میں فراہم کئے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں سماجی تحفظ کے احساس پروگرام کے تحت 192 ارب روپے اور اس پروگرام کے مختلف شعبہ جات مثلاً کفالت، وسیلہ تعلیم، انڈر گریجویٹ سکالرشپ، پاورٹی گریجویشن، اثاثہ جات کی منتقلی، بلا سود قرضوں و دیگر شعبوں کےلئے حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی رقم کی مکمل تفصیلات جبکہ برآمدات میں اضافہ اور ریلوے کے شعبہ میں حکومت کی جانب سے فراہم کردہ رقوم کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔

اس موقع پر وزیرِاعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف شعبوں میں حکومت کی جانب سے سبسڈی اور مالی سپورٹ کی فراہمی کا مقصد کمزور طبقہ کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ رقم متعلقہ افراد اور متعلقہ مقصد کےلئے فائدہ مند ثابت ہو۔ اس حوالہ سے وزیرِاعظم نے سبسڈی کے اثرات کے جائزہ کی اہمیت پر  بھی زور دیا۔

اجلاس میں وزیرِ توانائی عمر ایوب، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر تجارت عبدالرزاق داود، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، گورنر اسٹیٹ بینک سیّد رضا باقر، سیکرٹری خزانہ و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔

سورس:وی این ایس،اسلام آباد