اسلام آباد ، 28 فروری (اے پی پی): قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے ہدایت کی ہے کہ گستاخانہ مواد شائع کرنے والے پبلشروں، کتب کے امپورٹروں اور فروغ کنندگان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ حج کو بحری راستے اور بری راستے سے ممکن بناتے ہوئے سستا کیا جائے۔
کمیٹی کااجلاس جمعہ کو کمیٹی کے چیئرمین اسعد محمود کی زیر صدارت ہوا جس میں ارکان قومی اسمبلی سمیت وفاقی وزیر نور الحق قادری، وفاقی وزیر چوہدری طارق بشیر چیمہ اور دیگر تمام ممبران نے اس بات پر زور دیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں بے ادبی سے متعلق کوئی بھی کتاب یا مواد شائع نہیں کیا جا سکتا۔
مجلس قائمہ کو بتایا گیا کہ حج 2020 کے اخراجات کو حتیٰ الامکان کوشش کی گئی ہے کہ حج 2019 کے اخراجات کے مطابق ہی رکھا جائے تاہم ہوائی جہاز کے کرایوں میں اضافہ اور سعودی عرب کی طرف سے بعض ضروری اخراجات میں اضافہ کی وجہ سے حج کے اخراجات میں معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔ مجلس قائمہ نے اس بات پر زور دیا کہ چونکہ ہوائی کمپنیوں کی اجارہ داری بن چکی ہے لہٰذا ہوائی کمپنیاں من مانے اخراجات اور کرائے حجاج کرام سے وصول کر رہی ہیں چنانچہ اس مسئلہ کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بری اور بحری راستوں سے بھی حج کو ممکن بنایا جائے۔
چوہدری طارق بشیر چیمہ نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے والی متفقہ قرارداد کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بتایا کہ بعض بین الاقوامی ادارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کے خلاف مواداور کتابیں شائع کرتے ہیں اور ا س کے بعد وہ بے ادبی پر مبنی مواد پاکستان میں ایکسپورٹ کر دیتے ہیں چنانچہ مجلس قائمہ نے قراردیا کہ حکومت فی الفور ایسی تمام کتابوں کی فروخت پر پابندی لگادے اور اس سلسلے میں باقاعدہ قانون سازی کرکے بل مجلس قائمہ میں پیش کیا جائے۔
اے پی پی /ضیا/حامد











