لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے تمام صوبوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا، پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ باقی شعبوں کو مرحلہ وار کھولا جائے گا: سینیٹر شبلی فراز

151

اسلام آباد ، 5 مئی (اے پی پی):  وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ کابینہ کو بتایا گیا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی لانے کے حوالے سے تمام صوبوں سے مشاورت کے بعد بدھ کو فیصلہ کیا جائے گا، پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ باقی شعبوں کو مرحلہ وار کھولا جائے گا۔

انہو ں نے منگل کے روز  وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے  بتایا  کہ کابینہ کی ہدایات کے مطابق بھارت سے درآمد کی جانے والی ادویات کی تفصیلات کابینہ کے سامنے پیش کی گئیں، کابینہ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں پانچ اگست کے جارحانہ اور یکطرفہ اقدام کے بعد حکومت کی جانب سے بھارت سے تمام اشیاءکی درآمد پر پابندی عائد ہے تاہم زندگی بچانے والی ادویات کو اس پابندی سے مستشنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایاکہ اجلاس کے آغاز میں وزیرِ اعظم نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا، اجلاس کو بتایا گیا کہ اصلاحات کے لئے قائم کمیٹی کی جانب سے سفارشات وزارتِ قانون کو بھجوا دی گئی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف انتخابی عمل کو مکمل طور پر غیر جانب دار اور شفاف بنانے پر یقین رکھتی ہے جس نظام اور عمل پر عوام کو مکمل اعتماد ہو۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں اصلاحات پی ٹی آئی ایجنڈے کا اہم جزو ہے لہذا یہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

 وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق کابینہ ڈویژن کی جانب سے گذشتہ دورحکومت میں کابینہ کی منظوری کے بغیر خلاف ضابطہ کی جانے والے اعلیٰ تعیناتیوں کی تفصیلات کابینہ کے سامنے پیش کی گئیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ مختلف ڈویژنز کی جانب سے اب تک موصول ہونے والی معلومات کے مطابق سات ڈویژن میں 76تعیناتیاں خلاف ضابطہ ہو ئیں۔کابینہ نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے تمام وزارتوں سے معلومات اکٹھی کر کے کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائیں۔

کابینہ کو کریمینل جسٹس سسٹم میں جاری اصلاحات کی پیش رفت پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ کریمینل جسٹس سسٹم کے تمام پہلوﺅں پر اصلاحاتی عمل کو ترجیحاتی بنیاد پر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی عمل داری کو یقینی بنانے کےلئے ضروری ہے کہ انصاف کے نظام میں تمام خامیوں کو دور کیا جائے۔

وزیر اعظم نے وزیرِ قانون کو ہدایت کی کہ اس عمل کو چھ ماہ میں مکمل کیا جائے۔ تھانوں کو ماڈل پولیس اسٹیشنز بنانے اور ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے حوالے سے پیش رفت سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔

 انہوں نے کہاکہ کابینہ کوبیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے سہولت کاری کے حوالے سے کابینہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں کابینہ کی جانب سے کیے جانے والے اب تک کے فیصلوں پر عمل درآمد کی تفصیلی رپورٹ اجلاس میں پیش کی گئی ۔اب تک کابینہ کے 81اجلاسوں میں 1630 فیصلے لیے گئے جن میں سے 1396 (86فیصد) پر عمل درآمد ہو چکا ہے جبکہ 114 (7فیصد) پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

کابینہ نے فوڈ اور نان فوڈ آئیٹمز پر مشتمل 61 اشیاءکو کمپلسری سرٹیفیکیشن مارک سکیم میں شامل کرنے کی تجویز پر غور کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس ضمن میں وزارت تجارت اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔ کابینہ نے پاکستان آڈٹ اینڈ اکاﺅنٹس سروس کے گریڈ بیس کے افسر نوید اصغر چوہدری کو ممبر فنانس واپڈا تعینات کرنے کی منظوری دی۔

وزیر اطلاعات و نشریات نے کہاکہ کابینہ نے قومی کمیشن برائے اقلیت کی تشکیل نو کی باضابطہ منظوری دی۔ کابینہ نے کورونا وائرس کے تناظر میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے وزیرِ اعظم پاکستان کورونا ریلیف فنڈ کے حوالے سے حکومت پاکستان، اخوت پاکستان اور اخوت یو ایس اے کے مابین مفاہمت کی یاداشت کی منظوری دی۔ اس مفاہمتی یاداشت کی بدولت اخوت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے وزیرِ اعظم کورونا ریلیف فنڈ کے حوالے سے عطیات اکٹھے کر سکے گی۔

کابینہ نے ملک میں تیار شدہ ہینڈ سینی ٹائزر کی برآمد کی منظوری دی تاہم یہ منظوری ان برآمدکندگان کو دی جائے گی جن کے پاس ہینڈ سینی ٹائزر اضافی مقدار میں موجود ہیں۔کابینہ نے ملک میں چاول کی مقدار اور طلب کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ چونکہ ملک میں چاول کی اضافی مقدار موجود ہے لہذا کابینہ نے چاول کی برآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا۔

وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کورونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے کابینہ کو بتایا  کہ الحمد للہ پاکستان میں کورونا کی صورتحال دیگر ممالک کے مقابلے میں قدرے بہتر ہے۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کابینہ کو مستحق افراد کی معاونت کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوۓ بتایا  کہ سابقہ ادوار کے ڈیٹا بیس میں موجود چالیس لاکھ افراد کے ساتھ ساتھ موجودہ دور میں تقریبا اسی لاکھ خاندانوں کا اضافہ کیا گیا ہے جن کو احساس پروگرام کے تحت مالی معاونت فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے جس کو مکمل طور پر شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے۔

وزیرِ اعظم نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے حوالے سے حفاظتی اقدامات میں کسی قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جن کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے ان میں حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کابینہ ممبران کو ہدایت کی کہ وہ ایس او پیز پر عمل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

 سینیٹر شبلی فراز نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) موجودہ صورتحال میں سیاسی فائدے کیلئے بیان بازی کر رہی ہیں۔شہباز شریف کو نیب نے بلایا تھا جو کہ قانون کا ادارہ ہے، مریم اورنگزیب کے بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں اور قانون کے سامنے پیش ہونے کو بے عزتی سمجھتے ہیں، وہ جمہوریت کے دعویدار ہیں حالانکہ ان کی سوچ بادشاہت کی عکاس ہے۔انہوں نے اپنے دورحکومت میں ملک کو لوٹا ،بیرون ملک اثاثے بنائے، یہی وجہ ہے کہ ملک کا صحت کا نظام تباہ حال ہے۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی پورے ملک میں حکومت تھی اور اب یہ سندھ تک محدود ہوگئی ہے اگر یہی صورتحال برقرا رہی تو لاڑکانہ تک محدود ہوجائے گی جس طرح بعض جماعتیں خیبر پختونخوا میں حجروں تک محدود ہو گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ باقی شعبوں کو مرحلہ وار کھولا جائے تاکہ بیروزگاروں اور غریبوں کو مزدوری کا موقع ملے،یہ واحد جنگ ہے جو ہم گھر بیٹھ کر جیت سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہاکہ ہمیں احتیاط اور قواعدو ضوابط پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانا ہے، احتیاط نہ کرنے کی صورت میں یہ دوبارہ پھیل سکتا ہے جوکہ خطرناک صورتحال ہوگی،میڈیا اس حوالہ سے آگاہی پیدا کرنے میں اپنا کردار اداکرے۔انہوں نے کہاکہ میں نے کرونا کا ٹیسٹ کروایا جو نیگیٹو آیا ہے۔ کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی وزرائ، وزرائےِ مملکت، مشیران اور معاونین خصوصی اپنی ایک ماہ کی تنخواہ کوویڈ ریلیف فنڈ میں عطیہ کریں گے۔

اے پی پی /عمار برلاس /حامد