سکھر،07 اگست (اے پی پی): سندھ ہائیکورٹ سکھر بنچ نے سکھر اور روہڑی جڑواں شہروں کو ملانے کے لیے دریائے سندھ پرقائم لینس ڈاؤن پل کے متبادل پل کی تعمیر کی بابت دائر کردہ ایک درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے وفاقی سیکریٹری پلاننگ، سیکریٹری این ایچ اے سمیت دیگر متعلقہ فریقین کو 8 ستمبر کو طلب کرلیا ہے۔
سکھر اور روہڑی سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ،نعمان اسلام شیخ نے سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں ایک پٹیشن دائر کی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ سکھر اور روہڑی کے شہروں کو ملانے کے لیے قائم لینس ڈاؤن پل کی تعمیر کو 129 سال گزر چکے ہیں اور یہ اپنی معینہ مدت مکمل کرچکا ہے ، پل خستہ حالی کا شکار ہے اگر خدانخواستہ یہ پل گرا تو دونوں شہروں کے درمیان قریبی زمینی رابطہ منقطع ہوجائے گا، اس لیے اس کی جگہ متبادل پل کی تعمیر کی ضرورت ہے جو جلد سے جلد تعمیر کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ روہڑی اور سکھر کے شہروں کو ملانے کے لیے قائم اس لینس ڈاؤن پل کی تعمیر کا کام 1887 میں شروع کیا گیا تھا اور اس کی تکمیل دو سالوں کے اندر کی گئی اور یہ پل 1889 میں مکمل ہوا اور شروع میں اس پر سے ٹرین گذاری جاتی تھی بعد ازاں جنرل مارشل ایوب کے دور میں اس پل کے برابر ایوب پل تعمیر کیا گیا، جس کے بعد اس پل کو صرف عام ٹریفک کے لیے مخصوص کردیا گیا تھا،اس پل کی معینہ مدت 100 سال لگائی گئی تھی مگر اب یہ پل 129 سال گذار چکا ہے اور اب بھی اس پر ٹریفک کی آمدورفت کا سلسلہ جاری ہے۔
اے پی پی /اطہراللہ/نورین











