لاہور، 23 اکتوبر(اے پی پی): صوبائی وزیر قانون و سوشل ویلفیئر راجہ بشارت نے کہا ہے کہ حکومت وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق تشدد کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدام کر رہی ہے، صنف کی بنیاد پر بڑھتے تشدد کی روک تھام کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نےجمعہ کو یہاں مقامی ہوٹل میں منعقدہ سمپوزیم سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سمپوزیم کا اہتمام پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی اور پیس اینڈ جسٹس نیٹ ورک نےکیا۔
اس موقع پر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ قوانین موجود ہونے کے باوجود معاشرے میں صنف کی بنیاد پر تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام پرانے قوانین کو اپ ڈیٹ کر کے مزید موثر بنا رہے ہیں، تشدد کی روک تھام کے لیے وسیع پیمانے پر آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ملتان کے بعد لاہور میں بھی سٹیٹ آف دی آرٹ ویمن پروٹیکشن سنٹر بنا رہے ہیں، ویمن پروٹیکشن مراکز میں متاثرہ خواتین کو تمام سہولیات ایک ہی چھت کے نیچے فراہم کریں گے۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ ہماری حکومت نے مقدمہ ء قتل کی تفتیش کے اخراجات ڈھائی ہزار سے بڑھا کر 30 ہزارروپے فی مقدمہ کر دیے ہیں، گھریلو خواتین ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لئے باقاعدہ قانون لا رہے ہیں، ابتدائی طور پراربن تھانوں میں خواتین کے لیے الگ کاؤنٹر بنانے کا منصوبہ ہے۔
پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن کنیز فاطمہ چدھڑ نے کہا ہم صوبائی اور ضلعی ویمن پروٹیکشن کمیٹیاں قائم کرنے جا رہے ہیں۔
منعقدہ سمپوزیم میں صوبائی وزیر حقوق انسانی اعجاز عالم آگسٹین، پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن کنیز فاطمہ چدھڑ نے شرکت کی۔











