رحیم یار خان، 26 اکتوبر (اے پی پی): صوبائی وزیر آبپاشی پنجاب محمد محسن لغاری نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی پاکستان تحریک انصاف کا ایجنڈا ہے، عوام کی بے لوث خدمت، فلاح وبہبود اور بھرپور ترقی کےلئے اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ پسماندگی کا خاتمہ ، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی و مسائل کا عوام کی دہلیز پر حل حکومتی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے میونسپل کارپوریشن رحیم یار خان کے جناح ہال میں کھلی کچہری کے دوران عوامی مسائل سنتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر علی شہزاد ، ڈی پی ا ومنتظر مہدی سمیت ضلعی افسران موجود تھے۔صوبائی وزیر نے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کے ہمراہ عوام کے مسائل سنتے ہوئے موقع پر ہی درخواستوں پر عملدرآمد کے احکامات جاری کیئے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزادر نے عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے صوبائی کابینہ کو ذمہ داریاں تفویض کی ہیں جس کا مقصد براہ راست عوام سے رابطہ میں رہتے ہوئے مقامی سطح پر ان کے مسائل کے حل کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں آئندہ نسلوں کو جھوٹ، الزام تراشی سے پاک ، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان دیں گے۔عوام کی ترقی اور پاکستان کی خوشحالی کامشن بغیر کسی تعطل کے جاری رہے گا۔
صوبائی وزیر آبپاشی نے کہا کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے زرعی ملک کا درجہ رکھنے والے پاکستان میں کاشتکاروں کے مسائل اور جدید زر عی اصلاحات پر کوئی کام نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں موجودہ حکومت مسائل کا سامنا کر رہی ہے اور ہنگامی بنیادو ں پر مسائل کو حل کرنے کے لئے فوری اور طویل مدتی پالیسیاں مرتب کی جا رہی ہے جس کے نفاذ سے زر عی شعبہ میں بہتری اور کسان خوشحال ہو گا۔انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ پانی کی کمی کو دور کرنا ہے جس کے لئے آبی ذخائر کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور منگلا و تربیلا ڈیم کے بعد موجود حکومت 0.8ملین مربع کیوسک پانی محفوظ کرنے کے لئے برج ڈیم کی تعمیر پر کام کر رہی ہے جو پاکستان میں پانی ذخیر ہ کرنے کا تیسرا بڑا ذریعہ ہوگا اور اس سلسلہ میں امسال بجٹ میں فزیبلیٹی سٹڈی کےلئے بجٹ مختص کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نہری پانی چوری کی روک تھام کےلئے جدید سسٹم متعارف کروار رہے ہیں جس کے باعث نہری پانی چوری ہونے والے علاقوں کی نشاندہی ہو سکے گی اور ذمہ داران اس کے جواب دے ہوں گے جبکہ غذائی قلت کے خاتمہ اور زر عی اجناس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے لئے محکمہ زراعت میں بھی جدت لائی جا رہی ہے تاکہ کسانوں کو ایسے بیج فراہم کئے جا سکیں جو زیادہ اجناس دینے میں کارآمد ثابت ہوں۔











