ایبٹ آباد،10اکتوبر(اے پی پی):آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان آرمی ہماری قابلِ فخر قوم کی خوبصورت اور حقیقی عکاس ہے، پاکستان آرمی نے نہ صرف دہشت گردی کو شِکست دی بلکہ فروری2019میں اپنے سے پانچ گنا بڑے دُشمن کو ہزیمت سے دوچار کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں جس کام کیلئے بھی فرائض سونپے گئے،ہم آئین اور قانون کی رہنمائی میں منتخب حکومت کی مدد جاری رکھیں گے۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستانی قوم کا افواج پر اعتماد اور مضبوط رشتہ دراصل اُن بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے جو ہمارے غازیوں اور شہیدوں نے اپنے لہو سے رقم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے امن کیلئے بھاری قیمت ادا کی ہے اور امن قائم رکھنے کیلئے لہو سے اسکی حفاظت یقینی بنائیں گے۔
آرمی چیف نے کہا کہ دُنیا کے بہت سے ممالک کی طرح پاکستان کو جنگ، دہشت گردی اور معاشی شکنجے کا سامنا کرنا پڑا،پاکستان نے ان تمام سازشوں اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اب وقت ہے کہ متحد ہو کر اور اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر پاکستان کو خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔
انہوں نے کہا کہ قائد کے ویژن کے مطابق پاکستان نے علاقائی اور عالمی امن کیلئے بھرپور کوششیں کیں ہیں،یہ ایک مشکل سفر تھا لیکن اطمینان یہ ہے کہ آج ہمارے ادارے مضبوط ہو رہے ہیں اور مِل کر پاکستان کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں اوروہ دُشمن جو ہماری تباہی کا منصوبہ بنائے بیٹھے تھے، مایوسی سے ہماری کامیابیوں کو دیکھ رہے ہیں۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان کو/7 24 ہائبرڈ وار کا سامنا ہے،اس ہائبرڈ وار کا ہدف عوام ہیں اور میدانِ جنگ انسانی ذہن ہیں، ہر سطح پر قومی قیادت ہائبرڈ وار کا ہدف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائبرڈ وار کا مقصد پاکستان میں اِس اُمید کی فضا کو ٹھیس پہنچانا ہے اور اِس مفروضے کو تقویت دینا ہے کہ یہاں کچھ بھی اچھا نہیں ہو سکتا، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہاں سب کچھ اچھا ہو گا، پاکستان قوم نے ہمیشہ چیلنجز کو کامیابیوں میں تبدیل کیا ہے اور انشا اللہ اب بھی کریں گے۔
آرمی چیف نے کہا کہ عوام، دستور، دستوری روایات اور سب سے بڑھ کر وطن سے عہد وفا ہماری اصل مضبوطی اور طاقت ہے۔ آئین ِپاکستان اور قومی مفادات تمام معاملات میں ہمارے رہنما ہیں اور آج پاکستان دفاعی حوالے سے ایک مضبوط پاکستان ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ بحیثیت قوم ہم نے ثابت کیا ہے کہ ہم اپنے ذاتی اور آرگنائزیشن معاملات سے بالاتر ہو کر ناقابلِ یقین کام کر سکتے ہیں، دہشت گردی کی جنگ ہو یا کووڈ کے خلاف حکمت عملی،ٹڈی دل کے خلاف کارروائی ہو یا سیلابی صورتحال، ہم نے بحیثیت قوم اپنی قابلیت اور اہلیت کو کارکردگی سے ثابت کیا ہے اور پاکستان آرمی کو ان تمام قومی کوششوں میں شامل ہونے پر فخر ہے کیونکہ اس قوم نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا، بالخصوص جب ہم پاکستان کے دُشمنوں کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ میری دُعا ہے کہ پاکستان ایک خوشحال، مستحکم اور متعین مقام پر پہنچے، ایک ایسا پاکستان جہاں نہ صرف مسلمان بلکہ اقلیتیں بھی اپنے حقیقی تصور ریاست کو دیکھ سکیں۔
پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ میں پاس آؤٹ ہو نے والے دوست ممالک کے کیڈٹس سمیت تمام کیڈٹس کو مُبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے محنت سے اپنی ٹریننگ کو مکمل کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دِن آپ ایک ایسی فوج کا حصہ بننے جا رہے ہیں جو پُوری دُنیا میں اپنی پیشہ وارانہ اور حربی صلاحیتوں کے لئے جانی اور پِہچانی جاتی ہے۔
آرمی چیف نے کہا کہ آپ نے اپنے آپ کو ایک عظیم،مقدس اور انتہائی چیلنجنگ پروفیشن کے اہل ثابت کیا ہے۔آپ چاہے آفیسر ہوں یاجوان، والنٹیر انڈکشن سے لے کر تمام اکائیوں کی تناسب سے نمائندگی تک، آپ میں مدرسہ طالب علم سے لے کر پبلک سکول تک،ایک عام آدمی کے بیٹے سے لے کر متوسط وامیر کے بیٹے تک اور سب سے بڑھ کر شہیدوں کے وارث دراصل پاکستان کی خوبصورت نمائندگی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج جب آپ پاس آؤٹ ہو رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ اس عظیم قوم اور پاکستان آرمی کی تمام سابقہ اور آنے والےنشیب و فراز کی ذمہ داری آپ پر ہے،ان میں بہت سے اُتار چڑھاؤ کے واقعات آپ کی پیدائش سے بھی پہلے کے ہوں گے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ اپنی ذمہ داریاں مکمل کرچکنے کے بعد بھی، آپ کو پاکستان کی سلامتی، سیکورٹی اور خوشحالی کے لئے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا، یہ آپ کے کندھوں پر پاکستان کی عظیم قوم کا آپ سے محبت اور ذمہ داری کا ایک منفرد انداز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی کسی اور کیلئے جوابدہ نہیں، میں اسے اعزاز سمجھتا ہوں کہ ہم قوم کے سامنے ایک قابلِ اعتماد اور جوابدہ ادارہ کے طور پر حاضر رہتے ہیں،لہذا تمام کامیابیوں اور چیلنجز کے باوجود جب بھی وطن اور قوم کو ہماری ضرورت پڑی، ہم نے بہترین نتائج کے لئے اپنا آپ پیش کر دیا۔











