لاہور 27 نومبر (اے پی پی): وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ ڈاکٹر فیصل سلطان نے لاہور میں ایچ آئی وی ایڈز کی روک تھام کے حوالہ سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم یکم دسمبر کو عالمی طور پر ایڈز کا دن منایں گے۔
ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ حکومت پائیدار ترقی کے ایجنڈا 2030 اور صحت تندرستی بارے اپنے اہداف کے حصول کے عزم کو سنجیدگی سے لیتی ھے۔ حکومت یونیورسل ہیلتھ کوریج کو یقینی بنانے کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنارھی ھے۔ صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کیلئے یونیورسل ہیلتھ بینیفٹس پیکج کے عمل درآمد کی طرف بڑھ رھے ہیں، کسی کو بھی ہر چیز ہر وقت یاد نہیں رہتی، گائڈلائنز بنائی جانی چاہیے، ڈاکٹر کا فرض ہے مریض کا سائنسی اعتبار سے علاج کرے اور مریض کی ذہنی پریشانی و دباؤ کا احساس کرے۔ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ تمام چیلنجز کے باوجود ضروری خدمات والے پیکج کو یقینی بنانے کیلئے پر عزم ہیں اس سال ایڈز کے عالمی دن کا مرکزی موضوع عالمی یک جہتی اور مشترکہ زمہ داری ہےانھوں نے کہا کہ پہلے ایڈز کی وباءتھی اور اب کورونا (COVID-19) وباءنے صحت کے شعبے میں غیر مثالی بحران پیدا کر دیا ہےاس وباء کے ہمارے معاشرے کے غریب اور پسماندہ افراد پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رھے ہیں۔
تاہم ایچ آئی وی ایڈز اور کرونا وائرس پر قابو پایا جا سکتا ھےہم نے حقیقی معنوں میں روک تھام کے اقدامات میں سرمایہ کاری کرنے اور مشترکہ زمہ داری نبھانے کا عزم کر رکھا ھےڈاکٹر فیصل نے کہا کہ اس کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات نہ کئے تو مستقبل میں ہمیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
اس موقع پر صوبائی وزیر یاسمین راشد نے کہا ڈاکٹر اور مریض کے درمیان کمیونیکیشن بہت ضروری ہے، ایڈز کے مریض اپنا مرض شرم سے چھپاتے ہیں ہمیں بحثیت ڈاکٹر بہت احتیاط کرنا ہو گی، پنجاب میں ایک لاکھ اسی ہزار صحت کارڈ تقسیم کر رہے ہیں، ڈاکٹر کی زندگی میں اہم شخص مریض ہوتا ہے، ڈاکٹروں کو احساس کرنا چاہیے یہ ایک پیغمبری شعبہ ہے۔











