دنیا بھارتی عزائم کانوٹس لے، خطے کا امن داؤ پر لگ سکتا ہے،سی پیک کوسبوتاژ کرنے کےلئے دہشت گردی کاسیل بنارکھا ہے۔ : وزیرخارجہ  شاہ محمود قریشی

71

ملتان ۔15 نومبر (اے پی پی): وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ بھارت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ہمیں دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔ملتا ن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے مزید کہا کہ بھارتی اقدامات کے باعث خطے کا امن داﺅ پر لگ سکتا ہے۔دنیا اس کے عزائم کانوٹس لے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔ ہندوستان پاکستان کی صلاحیتوں کو اچھی طرح جانتاہے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان اوربھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں۔بھارتی اقدامات کے باعث خطے کا امن داوَ پر لگ سکتا ہے، دنیا کو بھارت کے عزائم کا نوٹس لینا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ بھارت نے دہشت گردوں کی تربیت کیلئے کیمپ بنا رکھا ہے،بھارت نے سی پیک کو سبوتاژکرنے کیلئے سیل بنا رکھا ہے،سی پیک کےخلاف سیل کو 80ارب روپے کی فنڈنگ کی گئی،انہوں نے کہا کہ بھارت نے ٹارگٹ کلنگ اور گلگت بلتستان میں بدامنی کی منصوبہ بندی کی ،تمام شواہد پاکستانی عوام اور دنیا کے سامنے رکھ دیئے ہیں،بھارتی اقدامات 4عالمی کنونشنز کی خلاف ورزی ہیں۔وزیرخارجہ نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے موقف کو اجاگر کیا،صدر مملکت نے بھی معاملے کی سنجیدگی پر بیان دیا،یہ معاملہ پاکستان کی بقا اور خوشحالی کا مسئلہ ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ وزیراعظم کو افغان صدر نے دورہ افغانستان کی دعوت دی ہے،وزیراعظم جلد افغانستان کا دورہ کریں گے، وزیراعظم کے دورہ افغانستان میں مختلف امور پر بات چیت ہوگی،پاکستان اور افغانستان کا امن جڑا ہوا ہے، قیام امن کیلئے پاکستان اور افغانستان کو مشترکہ حکمت عملی اپنانی ہوگی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم پی ڈی ایم کے جلسوں سے بالکل نہیں گھبرائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارتی عزائم اپوزیشن کے علم میں ہونے چاہیے۔جلسے ملتوی کرنا اپوزیشن کی صوابدیدہے،کورونا وائرس کے کیسز پھر سے بڑھنے لگے ہیں،ملتان میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے،کورونا ہاٹ سپاٹس میں ملتان اور حیدرآباد سرفہرست ہیں،اپوزیشن کو جلسے ملتوی کرنے سے متعلق غور کرنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کا خاتمہ اپوزیشن کی خواہش ہوسکتی ہے،اپوزیشن کی خواہش ہوتی تو حکومت اقتدار میں ہی نہ آتی،اپوزیشن فیصلہ کرے وہ چاہتی کیا ہے؟پی ڈی ایم قیادت تذبذب کا شکار ہے،کبھی اسٹیبلشمنٹ کےخلاف ہوتے ہیں تو کبھی اداروں کے اورکبھی اسٹیبلشمنٹ سے آسانی پیدا کرنے کی توقع کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی اداروں پر حملہ پاکستان کے مفاد میں نہیں،قومی اداروں سے توقع رکھنا بھی آئین کے منافی ہے،انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں یکسوئی نہیں ہے،ن لیگ کے کچھ رہنما پارٹی بیانیے سے مطمئن نہیں۔شاہ محمودقریشی نے کہا کہ گلگت بلتستان کاووٹر باشعور ہے،ووٹر جلسے جلسوں میں جاتا ہے لیکن ووٹ اپنی مرضی سے دیتا ہے،گلگت بلتستان میں پر امن انتخابی مہم ہوئی،اپوزیشن جی بی الیکشن میں جیت کے دعوؤں کے ساتھ دھاندلی کا الزام لگارہی ہے۔وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم نے اپوزیشن جماعتوں سے گلگت بلتستان الیکشن کےلئے سفارشات مانگیں ،2بار الیکشن کے حوالے سے بات چیت کے لئے بلایا لیکن اپوزیشن جماعتیں نہیں آئیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے پاس تمام اختیارات موجود ہیں ،کوشش ہے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ جلد از جلد مکمل فنگشنل ہوجائے ، جنوبی پنجاب میں تعینات سیکرٹریز سے درخواست ہے اپنے اختیارات استعمال کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی کم کرنا وزیر اعظم کی پہلی ترجیح ہے۔

کاشف/فاروق