ملتان؛ جتوئی میں واقع مسجد سکینتہ الصغری، ترک نقش و نگار  کی    ایک اعلیٰ  مثال 

454

 

ملتان،04 نومبر(اے پی پی ):  جتوئی میں واقع مسجد سکینتہ الصغری اپنی خوبصورتی کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے، یہ  مسجد امریکہ میں مقیم ہارٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر اسماعیل شاہ بخاری نے تعمیر  کروائی ہے  اور مسجد کے نام کے نام کو اپنی والدہ اور پھوپھی کے نام سے منسوب کیا  ہے ، مسجد ترک نقش و نگار  کی    ایک اعلیٰ  مثال  ہے ۔مسجد کی تعمیر کو پایہ تکمیل تک  پہنچانے میں ترکی کے انجئینرز نے اہم کرداد ادا کیا، اس مسجد کا رقبہ باون کنال ہے اور اسکے مینار 55 میڑ بلندی پر مشتمل ہیں ۔

اس مسجد میں 4000 ہزار نمازی بیک وقت نماز ادا کرسکتے ہیں اور مسجد مکمل ائیر کنڈیشنڈ ہے۔

 اس مسجد کی خوبصورتی کے چرچے  پورے پاکستان میں ہے اور لوگ  دوردراز سے اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں ،اس مسجد کی خاص بات یہ ہے اسے جدید سوسائٹی طرز پر زلزلہ پروف بنایا گیا ہے ۔ مسجد کے ساتھ موجود مدرسہ جامعہ مدینہ سلطان العلوم میں درسی نظام اور عصری تعلیم انگلش میڈیم اور ایم اے تک کی کلاسسز پڑھائی جاتی ہے اور اس میں جدید کمپیوٹر سیکشن اور پر یکٹیکل لیب بھی موجود ہے جہاں انہیں جدید تعلیم دی جاتی ہے ۔

اس  میں   زیر  تعلم  طلباء نے ڈیرہ خان بورڈ اور اسلام آباد محفل حسن قرات میں پہلی پوزیشن بھی حاصل کی ہے، بہت کم عرصہ میں طلبا ء یہاں سے تعلیم حاصل کرچکےہیں اور مسجد میں تیس کے قریب ملازمین اپنی ڈیوٹی دیتے ہیں اور مسجد کے سارے اخراجات ڈاکٹر اسماعیل شاہ خود برداشت  کرتے ہیں۔