ملتان، 13 دسمبر (اے پی پی ):وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے کہا ہے کہ جعلی زرعی ادویات کے مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کے خلاف حکومت پنجاب زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کھادوں و زرعی ادویات میں ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، زائد قیمتوں پر فروخت اور بلیک مارکیٹنگ کے مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور کاشتکاروں کے معاشی قتل میں ملوث ان عناصر کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں مزید تیزی لائی جائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے لودھراں میں محکمہ زراعت کے مختلف شعبہ جات کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔صوبائی وزیر زراعت نے مزید کہا کہ کاشتکاروں کیلئے اعلیٰ کوالٹی کی زرعی دویات کی دستیابی یقینی بنانا محکمہ زراعت کی ذمہ داری ہے۔ کاشتکاروں کو معیاری اور اچھی زرعی ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔
وزیر زراعت نے ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع کی کارکردگی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ غلط رپورٹس، ناقص اور غیر تسلی بخش کارکردگی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ گندم کی کاشت کا ہدف مکمل کیا جائے جو افسران گندم کی کاشت کا ہدف مکمل کرنے میں ناکام ہوئے ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
وزیر زراعت پنجاب نے دستیاب پانی کے با کفایت اور بہتر استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا، انہوں نے پنجاب میں ہائی ویلیو کراپس کی پیداوار اور ایکسپورٹ میں اضافہ کیلئے ہر ممکن وسائل بھی بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زراعت کے شعبہ میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے اور فی ایکڑ پیداور بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت جاری منصوبوں پر عمل درآمد تیز کرنے اور اہداف کی تکمیل کی ہدایت کی تا کہ کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں کمی اور آمدن میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔
بعد ازاں وزیر زراعت پنجاب نے ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت(توسیع)کے دفترکے لان میں گرین اینڈ کلین شجر کاری مہم کے تحت پودا بھی لگایا۔
اجلاس میں شہزاد صابرڈائریکٹر زراعت (توسیع)،ظفر اللہ سندھو ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ،ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع لودھراں ظفر ملک،عبدالصمد کے علاوہ محکمہ زراعت کے افسران موجودتھے۔