خیبرپختونخوا پولیس میں خوداحتسابی کے نظام پر قانون کے تحت بھر پور عمل درآمد ہو رہا ہے۔: آئی جی پی

165

پشاور،17دسمبر(اے پی پی): انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے کہا ہے کہ پولیس فورس میں کرپشن ، بدعنوانی اور پولیس تشدد قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا اور اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت کی کہ عوام کی شکایات پر قانون کے مطابق انصاف کی بروقت فراہمی کو یقینی بنائیں۔

یہ ہدایا ت انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس پشاور میں منعقدہ ویڈیو لنک کانفرنس کے دوران اعلیٰ پولیس حکام کو جاری کیں۔ کانفرنس میں ایڈیشنل آئی جی پی ہیڈ کوارٹرز، ایڈیشنل آئی جی پی انوسٹی گیشن، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز، ڈی آئی جی انٹرنل اکاﺅنٹبیلٹی، چیف کیپٹل سٹی پولیس پشاور اور تمام ریجنل پولیس افسروں نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ کانفرنس میں خیبر پختونخوا پولیس کے شکایات کے ازالے کے لیے قائم نظام پولیس ایکسس سروس (PAS) اور خود احتسابی نظام  (Internal Accountability)کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ ڈی آئی جی انٹرنل اکاﺅنٹیبلٹی نے پولیس ایکسس سروس اور خود احتسابی کے تحت عوامی شکایات اور اُن پر عمل درآمدسے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

آئی جی پی کو بتایا گیا کہ شہری ایس ایم ایس ، فیکس ، ای میل، ٹیلی فون آن لائن ایف آئی آر، ڈاک اور پیغام رسانی کے دیگر زرائع یا خود جاکر پولیس ایکسس سروس میں اپنی شکایات درج کراتے ہیں۔ اس نظام کے تحت ہر شکایت PASکے خود کار ڈیٹا بیس میں درج ہوجاتی ہے اور شکایت کنندہ کو ایس ایم ایس کے زریعے اس کی شکایت سے متعلق ایک کوڈ بھیج دیا جاتاہے۔ اسی طرح PASمیں جوبھی شکایت رجسٹرڈ ہوتی ہے تو سسٹم متعلقہ ایس ڈی پی او اور ڈی پی او کو ایس ایم ایس کے زریعے فوری اطلاع دیتا ہے اور متعلقہ ایس ڈی پی او اطلاع موصول ہونے کے 24گھنٹوں کے اندر اندر شکایت کنندہ سے رابطہ کرتاہے۔

آئی جی پی کو مزید بتایا گیا کہ پولیس ایکس سروس کمپیوٹرائزڈ ٹائم لائن، مانیٹرنگ نظام سے لیس ہے جو شکایات کا مقررہ وقت میں ازالہ یقینی بناتاہے۔ اور یہ رسائی آسان ،تیز اور بلاواسطہ ہے اور مخصوص کوڈ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی شکایت نظر انداز نہیں کی جاتی۔ اور شکایت کاازالہ ہونے تک شکایت کنندہ اپنی شکایت کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتا ہے۔  شکایت درج کرنے کے بعد موصول ہونے والی ایس ایم ایس شکایت کنندہ کے لئے حوصلہ افزائی کا کام کرتاہے جو متاثرہ شخص کو یقین اور اُمید دلاتاہے کہ پولیس اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ آئی جی پی کو مزید بتایا گیا کہ پولیس ایکسس سروس عوام کی سہولت کے پیش نظر صوبے کے تمام اضلاع میں ڈی پی اوز کے دفاتر میں قائم ہیں اور خود کار نظام کے تحت سنٹرل سسٹم کے ساتھ منسلک ہیں۔

آئی جی پی کو بتایا گیا کہ اب تک پولیس ایکسس سروس کو 31764 شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ جن میں سے 30100 شکایات کا بروقت ازالہ کر دیا گیا ہے جبکہ 1663 شکایات پر عمل درآمد جاری ہے۔ آئی جی پی کو مزید بتایا گیا کہ 12609 شکایات بذریعہ ایس ایم ایس، 2522 شکایات آن لائن جبکہ باقی ماندہ ٹیلی فون اور دیگر ذرائع سے موصول ہوئیں۔ اسی طرح آن لائن ایف آئی آر کے لیے 5903 شکایات موصول ہوئیں۔ آئی جی پی کو بتایا گیا کہ پولیس کے خلاف 12431 شکایات اور 11984 شکایات عوام کے آپس کے تنازعات سے متعلق موصول ہوئیں۔

 آئی جی پی کو خود احتسابی برانچ کی کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے تبایا گیا کہ اب تک پولیس کے خلاف مختلف قسم کی عوامی شکایات پر 3347 پولیس اہلکاروں کو سزائیں دی گئیں۔ انہیں بتایا گیا کہ 355 پولیس اہلکاروں کو بڑی سزائیں، بشمول نوکری سےبرخواستگی،  جبکہ 2992 اہلکاروں کو سخت سزائیں دی گئیں۔ سزا پانے والوں میں کانسٹیبل سے لیکر ڈی ایس پی رینک کے افسر شامل ہیں۔

آئی جی پی نے کانفرنس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کا احترام، عوامی شکایات کا بروقت ازالہ اور لوگوں کو انصاف کی فراہمی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں ۔ آئی جی پی نے متعلقہ اعلیٰ پولیس حکام کو پبلک سیفٹی کمیشن اور ریجنل کمپلینٹ اتھارٹی جلد از جلد فعال بنانے کی بھی ہدایت کی۔ آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کا ادارہ عوام کی خدمت کے لیے بتایا گیا ہے اور پولیس عوام کو ہر سطح پر جوابدہ ہے اور کہا کہ صوبے میں عوام کے لیے اور عوام کے ذریعے پولیسنگ کو فروغ دیا جارہا ہے۔ آئی جی پی نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ پولیس کے خود احتسابی کے نظام کو مزید موثر اور مربوط بناکر لوگوں کی امنگوں کے مطابق اُن کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔