شجاع آباد :سیکرٹری زراعت پنجاب اسد رحمان گیلانی کا مینگو ریسرچ اسٹیشن کا دورہ، ریسرچ ٹرائلز کا جائزہ لیا  

132

شجاع آباد ،22 دسمبر (اے پی پی):سیکرٹری زراعت پنجاب اسد رحمان گیلانی  نے منگل کو یہاں مینگو ریسرچ اسٹیشن کا دورہ کیا ، دورہ کے دورا ن آم کی روٹ سٹاک ورائٹیز، ہائی ڈینسٹی پلانٹنگ جیو میٹری، ٹرینچ ٹیکنالوجی اور فیلڈ میں ریسرچ ٹرائلز کا جائزہ لیا۔

 اس موقع پر سیکرٹری زراعت نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کاشتکار کی خوشحالی موجودہ حکومت کی پالیسیوں کامرکز ہے۔ آم کی پیداوار ملک بالخصوص صوبہ پنجاب کی پہچان ہے جس میں اضافہ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کی ضرورت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ریسرچ کا عمل جاری رکھا جائے۔ تحقیقاتی سنٹرز پر کاشتکاروں کے سیمینار منعقد کرائے جائیں اور انہیں جدید ٹیکنالوجی کے صحیح استعمال بارے تربیت فراہم کی جائے جبکہ  آم کی کوالٹی میں بہتری اور برآمدات میں اضافہ کی خاطر پھل کی مکھی کے تدارک اور بعد از برداشت نقصانات سے بچنے کیلئے باغبانوں کی رہنمائی کی جائے۔ نئے باغات میں جدید نظام آبپاشی کی ترویج کے لیے بھی کاشتکاروں کو آگاہی فراہم کریں۔ کاشتکاروں کی رہنمائی کیلئے جلد از جلد نصاب اور تربیتی شیڈول مرتب کرکے شیئر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ کوالٹی اور بہتر پیداوارکے حصول کیلئے آم کی ایسی اقسام کی کاشت کو فروغ دیا جائے جن کی پیداواری صلاحیت زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مانگ بھی ہو۔

سیکرٹری زراعت پنجاب نے کہا کہ  ضرر رساں کیڑوں اور بیماریوں کو کنٹرول کرنے کیلئے ماحول دوست مینجمنٹ کی جائے اور باغات پر سپرے کیلئے ڈرون ٹیکنالوجی کے ٹرائلز کا ڈیٹا اکٹھا کرکے پیش کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مینگو ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے تحت آم کے تصدیق شدہ صحیح النسل پودے تیار کرکے زیادہ سے زیادہ باغبانوں کو فراہم کئے جائیں تاکہ آم کی صنعت کو مستقل بنیادوں پر فائدہ پہنچے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی زرعی مصنوعات کی طلب میں اضافہ کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ کسان کی تمام پیداوار ایکسپورٹ اور انہیں بھاری زرمبادلہ حاصل ہو،کسان پھلوں کی کاشت و برداشت کیلئے جدید ٹیکنالوجی اپنائیں تاکہ عالمی منڈیوں کے مقابلے کے قابل ہوسکیں۔

 سیکرٹری زراعت پنجاب نے محکمہ زراعت توسیع کے افسران کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنا قبلہ درست کریں اور زرعی سفارشات کاشتکاروں کی دہلیز تک بروقت پہنچانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں تاکہ جدید زراعت کے فروغ کو ممکن بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی تحقیق و توسیع کے روایتی نظام پر نظر ثانی کرتے ہوئے متغیر زرعی سفارشات خصوصاً وقت کاشت، فصلوں کی آبپاشی اور فصلی ترتیب کو از سرنو متعین کیا گیا ہے۔ زرعی سائنسدان بدلتے موسمی حالات کو مدنظر رکھ کر جامع حکمت عملی کے تحت تمام تر تحقیقی سرگرمیوں میں تیزی لائیں۔

سیکرٹری زراعت نے ڈائریکٹر زراعت توسیع کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آم کے باغات پر ہاپر کے حملہ اور اس کے کنٹرول کی رپورٹ 10 جنوری تک جمع کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں امور کاشتکاری کی سفارشات میں نمایاں تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ زرعی لوازمات خصوصاً کھادوں اور بارشی و زمینی پانی کے دانشمندانہ استعمال کیلئے نئے طریقے متعارف کرائے جارہے ہیں تاکہ مختلف فصلوں، سبزیوں، دالوں اور پھلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ سے زیادہ منافع حاصل کیا جاسکے۔

 اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ مینگو ریسرچ اسٹیشن میں 43 ایکڑ پر آم کے باغات لگائے گئے ہیں جن میں 2 ایکڑ رقبہ پر ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن کے تحت تجربات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے دوران ادارہ ہذا کے تحت بیماریوں سے پاک تصدیق شدہ 20 ہزار آم کے پودے کاشتکاروں کو دئیے جارہے ہیں۔