وفاقی کابینہ نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ادارہ کو مزید با اختیار ،خود مختاراور شفاف بنانے  کیلئے  قانونی ترامیم کی منظوری دیدی

0
63

اسلام آباد،12جنوری  (اے پی پی):وفاقی کابینہ نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ادارہ کو مزید با اختیار ،خود مختاراور شفاف بنانے کے لئے قانونی ترامیم کرنے اورصوبہ سندھ میں ضمنی انتخابات کے حلقوں میں امن و امان قائم رکھنے کی خاطر پاکستان رینجرز تعینات کرنے سمیت 15نکاتی ایجنڈے کی منظوری دیدی ہے ،کابینہ نے اسلام آباد میں جاں بحق ہونے والے نوجوان اسامہ ستی کے والدین  کو قانونی کارروائی اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔کابینہ نے گمشدہ افراد کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا اور ان گمشدگیوں کے خاتمے کے لئے قوانین بنانے کی ہدایت کی ۔

 منگل کو وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد ہونے والے فیصلوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ دو سالوں سے ہر منگل کو کابینہ کا اجلاس ہوتا چلا آرہا ہے، آج 15نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے فنکشنز سے متعلق بل لارہے ہیں جس کا مقصد ان کے اختیارات کو ذیادہ واضح کرنا شفافیت لانا اور دائرہ کار کو بڑھانا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے جتنی بھی خودمختار باڈیز تھیں ان کا آڈٹ پرائیویٹ سیکٹر سے کرایا جاتاتھا ،ہم آہنگی لانے کے لئے نیشنل بینک آف پاکستان ،او جی ڈی سی ایل وغیرہ تک آڈیٹر جنرل کا دائرہ کار بڑھادیا گیا ہے ۔آڈٹ کے پیرا دو نوعیت کے ہوتے ہیں ان میں طریقہ کار کے نقائص اور سنسی خیزی کا عنصر شامل ہے، ان ترامیم سے آڈٹ کے طریقہ کار میں جدت ،ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال اور ماہرانہ کاروائی ممکن ہو سکے گی۔

کابینہ کو تیل کی اسمگلنگ روکنے کی خاطر لئے گئے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ۔ بتایا گیا کہ غیر قانونی اور اسمگل شدہ تیل کی فروخت سے حکومت کو 180ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے ۔انسداد اسمگلنگ کے لئے اس وقت تک ملک بھر میں 192پٹرول پمپ سیل کر دئیے گئے ہیں جو اسمگلڈ تیل کی فروخت میں ملوث تھے،قانونی کارروائی کا یہ عمل جاری رہے گا۔

مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت کے 100سے زیادہ ادارے بند یا دوسرے اداروں کے ساتھ ضم کر دیے گئے ہیں تاکہ حکومت پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے ۔انہوں نے مزید آگاہ کیا کہ تقریباً 71,000کم درجے (اسکیل 1تا 16)کی آسامیاں جو کہ ایک سال کی مدت سے زیادہ عرصہ تک خالی رہی ہیں ،ان کو ختم کیا جائے گا۔

کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ اے جی پی آر کے ادارے میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل لاگو کیا جارہا ہے جس سے کرپشن کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ کابینہ نے لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی ایکٹ 2020ءکے تحت ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی کی شرائط منظور کیں، یہ اتھار ٹی مستحق وکمزورطبقے کوحصول انصاف کے لئے مالی اور قانونی معاونت فراہم کرے گی۔ کابینہ نے ایف آئی اے ایکٹ 1974ءکے تحت ایف آئی اے کمرشل بنک سرکل لاہور کو پولیس اسٹیشن کا درجہ دینے کی منظوری دی ۔اس منظوری کے بعد ایف آئی اے (FIA)کے اس پولیس اسٹیشن کی عملداری کا اختیار لاہور،قصور ،شیخوپورہ،ننکانہ صاحب اور اوکاڑہ تک بڑھ جائے گا جس میں بینکاری جرائم کے خلاف قانونی کارروائی ممکن ہو سکے گی۔

کابینہ نے قومی طب کونسل میں ممبران کے انتخابات اور ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کی منظوری دی۔معاون خصوصی برائے صحت نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ ملک بھر سے دوبارہ استعمال ہونے والے سرنج کے خاتمے کے لئے قانون لایا جا رہا ہے ۔کابینہ نے پیٹرولیم ڈویژن کے زیر انتظام پبلک سیکٹر کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹر زپر Ex-Officio ڈائریکٹر ز کی نامزدگیوں میں تبدیلی کرنے کی منظوری دی۔

کابینہ نے وزارت ریلوے کو نوشہرہ میں تعمیرات کرنے کامعاملہ کمیٹی کے سپرد کر دیا جس میں وزیر قانون ،وزیر تعلیم ،وزیر دفاع اور وزیر ریلوے شامل ہونگے ۔کابینہ نے پاکستان کونسل برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے بورڈ آف گورنرزتشکیل دینے کی منظوری دی ۔کابینہ نے کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے مورخہ 17دسمبر2020ءاور 23دسمبر2020ءکو منعقد ہ اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی تو ثیق کی۔

 کابینہ نے کمیٹی برائے نجکاری کے مورخہ 04جنوری 2021ءکو منعقدہ اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی ۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مورخہ06جنوری 2021 کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی ۔کابینہ نے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تنظیم نو کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے تعلیم کے فروغ کے لئے معارف فائونڈیشن ترکی اور وفاقی وزارت تعلیم کے مابین مفاہمتی یاداشت دستخط کرنے کی اجازت دی ۔کابینہ نے صوبہ سندھ میں ضمنی انتخابات کے حلقوں میں امن و امان قائم رکھنے کی خاطر پاکستان رینجرز تعینات کرنے کی منظوری دی۔

 کابینہ اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے اسامہ ستی کا کیس اٹھایا ،وزیراعظم نے سخت خفی کا اظہار کیا کہ کیسے ایک نوجوان لڑکے کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ہے ،جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ اگر اس جے آئی ٹی سے ورثاءمطمئن نہ ہوں  تو جس طرح کی انکوائری چاہیں گے وہ یقینی بنائیں گے،ذمہ داروں کو کڑی سزائیں دیں گے ۔

 ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹرشبلی فراز نے کہا کہ براڈ شیٹ ، سکینڈل2000سے شروع ہوا،مسلم لیگ ن اور پی پی کو این آر او  دینے کے بعد یہ انکوائری سردخانے میں چلی گئی ، 200ناموں کی فہرست دی گئی تھی جنہوں نے رقوم بیرون ملک منتقل کی  اس کے لئے بین الوزارتی کمیٹی بنائی گئی ہے جو سارے کیس اور چیدہ چیدہ نکات کا جائزہ لے گی، جنہوں نے ملک کے اثاثے لوٹے اور کمپنی کو جو ادائیگی کی تھی ، کمیٹی چند روز میں اہم انکشافات کرے گی ، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کو بے نقاب کیا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ دو سالوں کے دوران ہر منگل کو کابینہ اجلاس منعقد ہوا ،ان اجلاسوں کی تعداد اور فیصلے پچھلی حکومت کے 10سالوں پر بھاری ہیں، وزیراعظم نے ہر کابینہ رکن کی بات، تجویز کو سنا ،حقیقی معنوں میں کابینہ کی مساوی ذمہ داری پوری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم ،پورے ملک کے لئے قصہ پارنیہ بن گیا ہے ،ایسی تحریک تھی جس کی بنیاد کھوکھلی تھی ، عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ عوام کرپشن کے خلاف باہر نکلتی ہے نہ کہ کرپشن بچانے کے لئے ۔

 ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینٹ کے الیکشن کے لئے عدالت عظمی سے راہنمائی مانگی ،اس کا مقصد ہے کہ  الیکشن شفاف ہوں  اورپیسے کا استعمال نہ ہو ، پارلیمنٹ کا ایوان بالا سینٹ ہے اس میں وہ لوگ آئیں جو خاص تجربہ رکھتے ہیں،وہ پالیسی سازی اور قانون سازی میں اپنا کردار ادا کریں ، ماضی میں پیسے والے لوگ آتے تھے جن کو آنا چاہئیے تھا وہ نہیں آپاتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کا ہمیشہ سے موقف رہا کہ سینٹ کے الیکشن شفاف طریقے سے ہوں، آنے والے دنوں میں عدالت کیا راہنمائی دیتی ہے‘ پوری قوم کو پتہ ہونا چاہیے کہ ہمارا مقصد کیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بہت سے تقاضے پورے کرنے میں تاخیر ہوتی تھی اس لئے پیپرا رولز کو ویکسین خریداری سے استثنی قرار دیا ہے یہ استثنی تکنیکی وجوہات کی بناءپر ایک مرتبہ کے لئے  ہے ۔