سال   2020   میں   پاکستان نے اقوام متحدہ میں کشمیری  عوام   کا  مقدمہ   کامیابی سے  پیش کیا ؛ مستقل   مندوب منیر اکرم 

0
522

 

اقوام متحدہ،یکم جنوری  (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل  مندوب منیر اکرم  نے2020  کو پاکستانی مشن کی  طویل اور    انتہائی کوششوں کا سال قرار دیتے ہوئے کہا کہ  2020میں اقوام متحدہ میں  پاکستان  کا   بنیادی مقصد  دنیا کے سامنےغیر قانونی  بھارتی تسلط میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں   بھارتی فوجی محاصرے اور انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں   کو بے نقاب کرنارہا۔

انہوں نے  اقوام متحدہ میں 2020 میں پاکستان کے کردار    پر مبنی  وڈیو پیغام میں سال  کے اختتام پر جاری جائزہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ   پاکستان کی قیادت کی بہترین رہنمائی   کے پیش نظر ہم نے اقوام متحدہ میں مختلف کثیرالجہتی عمل  میں  مرکزی کردار ادا کیا اور 2020 کا سال   اقوام متحدہ میں پاکستانی  سفارتکاری کے لیے اس لحاظ    کامیاب سال رہا  کہ اس دوران    پاکستان نےکامیابی سے  کشمیری  عوام کی آزادی کی جدوجہد کے لئے قانونی ، سیاسی اور اخلاقی مقدمہ پیش کیا اور عوام کی خودمختاری کے لئے پاکستان  کی قیادت میں قرارداد پیش کی جسے جنرل اسمبلی نے اتفاق رائے سے  منظور کیا۔

 پاکستانی مندوب نے کہا کہ  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 2020 میں   چین کی حمایت  اور  پاکستان کی درخواست پر  بھارت کے غیرقانونی تسلط میں مقبوضہ کشمیر  کی صورتحال پر  2 بار اجلاس میں بحث کی  اور سب سے اہم   یہ کہ   بھارت میں بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے متنازع ،   غیرقانونی اور یکطرفہ  قانون  کو ایک سال مکمل ہونے پر5 اگست کو حال ہی میں اجلاس منعقد کیا  اور  یہی نہیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال  اور بھارتی ریاستی دہشت گردی  پر مسلسل  تفصیلی  روشنی ڈالی گئی   بلکہ  اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کو  تفصیلی ڈوزیئر   پیش کیا گیا۔

  منیراکرم نے کہا کہ ہم غلط معلومات  کے نیٹ ورکس  کی روک تھام کے لیے بھی کام کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں   ہم دنیا کو بھارت کے شناخت کی چوری، ٹیکنیکل اور اقوام متحدہ کے نظام سے  غلط کے زریعے جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈاسے  خبردار کرتے ہوئے   حقیقی اور موجودہ خطرے  سے آگاہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں اسلامو فوبیا کے معاملے   کو اٹھایا اور  مذہبی علامتوں کے احترام اور آزادی رائے کے اظہار پر جائز پابندیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے بین المذاہب اور بین الثقافتی  ڈائیلاگ پر مبنی قرارداد پیش کی جسے  اسمبلی کی 193 رکن ریاستوں نے بھاری اکثریت سے منظور کیا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش اور جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکیر نے رواں سال پاکستان کا دورہ کیا  جس میں پاکستان کے اقوام متحدہ کے ساتھ   کثیرالجہتی اور اہم تعلقات پر روشنی ڈالی گئی ۔ پاکستانی مندوب  نے کہا کہ  پاکستان نے افغان امن عمل میں سہولت کاری اور  افغان قیادت کے مطابق  افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنانے کی کوششوں  میں اہم کردار ادا کیا  اور یہی نہیں  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی  نے خطے میں تخفیف اسلحہ ،  روایتی اسلحہ کنٹرول  اور علاقائی سطح پر   اعتماد سازی  کے فروغ اور  پر پاکستان کی پیش کردہ   4 قراردادیں  منظور کیں۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اقوام  متحدہ  امن مشن میں خدمات کی اجام دہی کے دوران  لائبیریا مشن میں  پاکستان کے 69 امن اہلکاروں کو  ان کی بہترین خدمات پر میڈلز دیئے گئے۔  پاکستان نے    ترقی پزیر ممالک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے دورانکورونا وائرس سے نمٹنے ،   پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول اور  عالمی معیشت کی بحالی  کے لیے یکجہتی اور تعاون  کے حامل   بین الاقوامی ردعمل کی حمایت کی ۔

  انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے  کورونا وائرس  بارے  جنرل اسمبلی خصوصی  سیشن میں    کورونا وائرس سے بحالی کے عمل میں  ترقی پزیر ممالک  کی مدد   کرنے اور کورونا ویکسین  کی  منصفانہ اور عالمی  رسائی کے لئے  کمزور ممالک کو ترجیح دینے  کے مطالبے کی حمایت  پر مبنی10   نکاتی جامع  ایجنڈا پیش کیا ۔ منیر اکرم نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی   کے حوالے سے رواں سال    پاکستان کی جرات مند اور مضبوط قیادت اور عزم  کے لیے   یادگار رہے گا   کیونکہ اس سال  پاکستان نے   غربت کے خاتمے کے لیے   پائیدار  بنیادی ڈھانچے  میں سرمایہ کاری کی ضرورت   کو اجاگر کیا جبکہ پاکستان  نے     ایشیا پیسفک ریجن میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل  کر کے جنیوا میں اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کونسل  کا  مزید 3 سال کے لیے  دوبارہ   رکن منتخب ہو گیا ۔ پاکستانی مندوب منیر اکرم نے کہا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل مشن قابل  رکن  کی حیثیت سے  اپنی تمام صلاحیتیں اور خدمات کی انجام دہی کے لیے پرعزم ہے۔