بائیڈن انتظامی مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکوائے؛ اے پی پیک  نے سینیٹر باب مینڈیرز کیساتھ ہونے  والی زوم  میٹنگ میں  کشمیر متعلق  قرارداد   کا  متن  جاری  کر دیا

252

نیویارک ، 28 فروری (اے پی  پی ): پاکستانی امریکن کمیونٹی کی ایک اہم نمائند تنظیم امریکن پاکستانی پبلک  افئیرز   کمیٹی  (اے پی پیک) کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں بائیڈن انتظامی اور یو ایس کانگریس کے کردار سے متعلقہ ایک اہم قرار  کا    متن    جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ  قرارداد امریکن پاکستانی پبلک  افئیرز   کمیٹی  کے زیراہتمام 3 مارچ کو یو ایس  سینٹ کی فارن  ر یلیشن کمیٹی  کے چئیرمین  سینیٹر باب مینڈیرز کو ،ان سے “زوم “پر ہونیوالی آن لائن میٹنگ میں پیش کیجائے گی ۔

تین صفحات پرمشتمل مجوز و قرارداد” امریکن پاکستانی پبلک افئیرز کمیٹی ” کی   ” کشمیر  قرارداد کمیٹی ” کےارکان   ڈاکٹر اعجاز احمد، ڈاکٹر  محمود عالم، پروفیسر فیضان حق ، ڈاکٹر تنویر میر( کشمیری امریکن )، ڈاکٹر فیصل شاہ(کشمیری امریکن) اور اٹارنی عائشہ  کی جانب سے سینیٹر مینڈیز کو پیش کی جائے گی۔

امریکن پاکستانی پبلک افئیرز کمیٹی کی کشمیر سے تعلق مجوز قرار داد میں بائیڈن انتظامیہ اور کانگریس کے نمائندگان سے اپیل کی گئی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے، امریکی کانگریس کی غیر جانبدار  کمیٹی  مقبوضہ  کشمیر  میں مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے، اقوام متحدہ میں امریکہ کے مستقل مندوب ، بھارتی حکومت کومقبوضہ کشمیر کے حوالے سے واضح پیغام دیں، مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور اقوام متحدہ کے مبصرین کی مظلوم کشمیریوں تک رسائی یقینی بنائیں۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کو بجا طور پر امریکی حکومت اور امریکا کے منتخب نمائندوں سے امیدیں وابستہ ہیں، کیونکہ امریکا  اس وقت عالمی لیڈر اور دنیا بھر کے مظلوموں اور محکوم عوام کیلئے روشنی اور امید کی کرن ہے۔ قرارداد کے مطابق 5 اگست 2019 کو بھارتی وزیراعظم مودی نے بھارتی مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت کوختم اور اسے عوام کی مرضی کے خلاف بھارت میں ضم کر کے اور بھارتی آئین کی کشمیر کومتنازع قرار دینے والی شق کا خاتمہ کر کے ،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی کی ، عالمی امن کو خطرے سے دوچار کیا جس سے کشمیری عوام میں شدید مایوسی اورسخت بے چینی پھیلی ۔قرار داد میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کا یہ اقدام بین الاقوامی طور پرتسلیم شدہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

واضح رہےکہامریکن پاکستانی پبلک افئیرزکمیٹی  کا شمار پاکستانی امریکن کمیونٹی کی ان اہم نمائندہ تنظیموں میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے سال 2020 کے امریکی صدارتی و کانگریشنل الیکشن میں بھر پور متحرک کردار ادا کیا اور انتخابی مہم کے دوران ( صدارتی امید وار ) جو بائیڈن سمیت امریکی قا ئد ین کی توجہ مقبوضہ کشمیر  میں انسانی حقوق کی مسلسل سنگین خلاف ورزیوں ، مسئلہ کشمیر   کے سات سے زائد دہائیوں سے زیر التواء حل ، اقوام متحدہ اور عالمی برادری بالخصوص امریکی انتظامیہ کے کردار کی جانب دلوائی اور انتخابی مہم کے دوران اہم یقین دہانیاں بھی حاصل کیں۔

 صدر بائیڈن کی انتظامیہ اور یو ایس سینٹ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے کنٹرول سنبھالنے کے ایک ماہ کے بعد” امریکن پاکستانی پبلک افئیر کمیٹی “کی جانب سے سینٹ کی فارن ریلیشن کمیٹی کے چئیرمین کو  کشمیر  کی صورتحال پر قرار داد پیش کرنا ، اہم پیش رفت ہے۔