توقع ہے الیکشن کمیشن  اقدامات سے آزادی ‘ خود مختاری اور غیر جانبداری ثابت کرے گا ،وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز اورسینیٹر بیرسٹر علی ظفر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

104

اسلام آباد،5مارچ  (اے پی پی):وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ ڈسکہ سے سینیٹ انتخابات تک الیکشن کمیشن سے کوتاہیاں ہوئیں‘ الیکشن کمیشن اپنے موقف پر نظر ثانی کرتے ہوئے اپنے اقدامات سے آزادی ‘ خود مختاری اور غیر جانبداری ثابت کرے گا ، وزیراعظم عمران خان آج(ہفتہ) کو قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لیں گے ‘ پی ٹی آئی کے دو اراکین کی جانب سے سینٹ انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن میں ریفرنس فائل کیا گیا لیکن اس پر کارروائی کی نہیں گئی لیکن ڈسکہ کے معاملے پر رات تین بجے الیکشن کمیشن نے اقدامات اٹھائے‘یہ کہنا کہ کسی ادارے پر تنقید نہیں کرسکتے تو بات درست نہیں ہے۔ وہ جمعہ کو پی آئی ڈی میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز اور کامیاب ہونے والے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی الیکشن کمیشن اور تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں ‘ ان خبروں میں صداقت نہیں کہ ہم الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کر نے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے پریس ریلیز سے نہیں اقدامات سے اپنی غیرجانبداری ‘آزادی اور خودمختاری کا اظہار کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی جانب سے وزیراعظم کے بیان پر پریس ریلیز مناسب نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ الیکشن کو شفاف بنانے کی الیکشن کمیشن کی ذمہ داری پوری نہیں ہوئی ‘اس پر دکھی نہیں شرمندہ ہونے اور اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور الیکشن کمیشن ملکر ایسا میکنزم تیار کریں جس سے دھاندلی رک سکے اور شفاف الیکشن ہوسکیں ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست کا ستون شفاف انتخابات رہے ہیں ‘ عمران خان نے کرکٹ میں بھی شفافیت اور غیر جانبداری یقینی بنائی اور سیاست میں بھی ایسا ہی چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کا کھڑے ہو کر استقبال اور وزیراعظم کی آمد پر بیٹھے رہنا جانبداری نہیں تو اور کیا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ویڈیومیں ووٹوں کی خریداری ‘سندھ کے وزیر ناصر شاہ کی آواز اور مریم نواز کی تقاریر کہ ہمارا ٹکٹ بکا ہے اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کو کون سے شواہد درکار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ادارے کی جانب سے کہا گیا کہ ایک ہی چھت کے نیچے ایک سیٹ جیتی اور ایک ہاری گئی ہے ‘ ایسا نہیں ہے ہماری خاتون رکن کو جب پورے ووٹ ملے تو دوسر ے ممبر کو بھی اتنے ہی ملنے چاہیئں تھے ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن غصے میں نہ آئے ‘ وہ بظاہر اتنا طاقتور ادارہ ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کی بھی پرواہ  نہیں کی ‘ سپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ آئین کے آرٹیکل 218,219,220 کے تحت الیکشن ہارس ٹریڈنگ سے پاک سینٹ کے شفاف الیکشن یقینی بنائے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آج(ہفتہ) کو قومی اسمبلی سے اعتماد کاووٹ لیں گے ‘اس وقت تک 177اراکین اسلام آباد میں پہنچ چکے ہیں‘ 189ووٹ ملنے کا امکان ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت الیکشن کمیشن کے پیچھے کھڑی ہے ‘ توقع ہے کہ ادارہ اقدامات سے آزادی ‘ذمہ داری اور خودمختاری کو ثابت کریگا ۔ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے دو اراکین نے الیکشن کمیشن میں ایک رات قبل ریفرنس دائر کیا ‘ ڈسکہ الیکشن کے لئے تین بجے اقدامات کیے ‘ رات نو بجے ویڈیو ‘ پیسوں کے لین دین کے شواہد دیدیئے لیکن کچھ نہیں ہوا ‘ امید ہے کہ الیکشن کمیشن اس پر بھی فیصلہ کریگا ۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین کے مطابق ہر ادارہ آزاد اور غیر جانبدار ہوتا ہے ‘ الیکشن کمیشن آف پاکستان آئینی ادارہ ہے وہ اپنے فیصلے اور ایکشن سے جانا جاتا ہے لیکن یہ کہنا کہ کسی ادارے پر تنقید نہیں کرسکتے تو بات درست نہیں ہے ‘ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر بھی تنقید ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سینٹ کے الیکشن کے لئے ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی پیشکیش کی تھی ‘الیکشن کمیشن نے اس سے استفادہ نہیں کیا ‘ اس پر تنقید کرنا ہمارا حق ہے ‘ ادارے  خط لکھنے سے نہیں اپنے اقدامات سے اعتماد حاصل کرسکتے ہیں ۔