لاہور، 19 مارچ (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے سمندری علی زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ساڑھے 4 سو ملین ڈالر فش ایکسپورٹ ہوتی ہے، تیل گیس کے بعد مچھلی دنیا کا تیسرا بڑا ایکسپورٹ بزنس ہے لیکن ماضی میں میری ٹائم کی وزارت کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔
وفاقی وزیر برائے سمندری علی زیدی نے لاہور چیمبر آف کامرس میں تقریب کی صدارت کی، تقریب میں صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت اسلم اقبال، صدر اور نائب صدر لاہور چیمبر آف کامرس سمیت بزنس کمیونٹی سے تعلق والے کئی شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد اختیارات سندھ فشریز کے پاس چلے گئے، سندھ میں فشری کا بہت برا حال ہے، بلواسطہ بہت ساری انڈسٹریل سیکٹرز میری ٹائم کی وزارت سے وابستہ ہیں، پاکستانی ایکسپورٹ بڑھنے اور امپورٹ کم ہونے کی وجہ سے کنٹینرز کم پڑ گئے ہیں، دنیا میں کنٹینرز مہنگے ہو گئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے سابق حکومت کے ساہیوال کول پاور پلانٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پورٹ سے ایک ہزار کلو میٹر دور ساہیوال میں کول پاور پلانٹ لگانا کسی لحاظ سے درست نہیں تھا، ماضی کی حکومت کے معاہدے ملک کو درست سمت چلانے میں مشکلات کھڑی کر رہے ہیں، اکثر معاملات انٹرنیشنل کورٹس میں چلے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے چیلنجز دو رہ گئے ہیں ایک افراط زر اور دوسرا انرجی کا، وزیر اعظم چیلنجز پر قابو پانے میں سنجیدہ ہیں، عدالتی اصلاحات کے بغیر ہم آگے نہیں چل سکتے ،عدالتی اصلاحات میں کچھ تاخیر ہوئی لیکن اب یہ کام کریں گے۔
اس موقع پر صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے کہا کہ وزرت سمندری امور میں کوآرڈینیشن کی بہت دیر سے ضرورت تھی، چیمبرز کا جو بھی مسئلہ آئے تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ جلد سے جلد حل کیا جائے، بزنس کمیونٹی پاکستان کے مفاد کے لئے ہمیشہ ہمارے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔











