سکھر،25مارچ ( اے پی پی ) سکھرپولیس کے ہاتھوں عرفان جتوئی کی مبینہ مقابلہ میں ہلاکت کی تحقیقات کے لئے آئی جی سندھ کی انکوائری ٹیم سکھر پہنچی، مقتول کے ورثا بیان دینے نہیں آئے جس کے باعث انکوائری مکمل نہیں ہوسکی۔
انکوائری کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر جمیل احمد ایڈیشنل آئی جی سکھر کے دفتر میں پہنچے ۔ مقتول کے ورثا کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے جس کے باعث انکوائری مکمل نہیں ہوسکی۔
اس موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ عرفان جتوئی پولیس مقابلے کی انکوائری کے سلسلے میں سکھر آیا ہوں،انکوائری کمیٹی نے ممبران کے ساتھ پولیس مقابلے کی جگہ کا معائنہ کیا ہے، پولیس مقابلے میں شامل پولیس افسران اور اہلکاروں کے بیانات بھی قلمبند کئے ہیں،مقابلے میں ہلاک عرفان جتوئی کے ورثا کو 4 بار نوٹس جاری کرکے بیانات قلمبند کرانے کیلئے طلب کیا گیا ہے، مگر ورثا ایک بار بھی انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ عرفان جتوئی کے ورثا کو پانچویں بار بھی نوٹس جاری کرکے بیانات قلمبند کرانے کیلئے 30 مارچ کو طلب کیا ہے،چاہتے ہیں عرفان جتوئی کے ورثا پیش ہوکر بیانات دیں تاکہ انکوائری مکمل کرکے رپورٹ آئی جی سندھ کوپیش کی جا سکے۔
واضع رہے کہ سکھرپولیس نے 3 مارچ کو عرفان جتوئی کو مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔قوم پرست جماعتوں، سول سوسائٹی کے احتجاج پر آئی جی سندھ نے نوٹس لیا تھا اور ایڈیشنل آئی جی حیدرآباد کی سربراہی میں تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔