وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر  کی زیر صدارت سرکاری کاروباری اداروں سے متعلق کابینہ کمیٹی کا اجلاس، اداروں کے فارنزک آڈٹ کیلئے نظرثانی شدہ ٹرمزآف ریفرنس کی منظوری

7

اسلام آباد۔7اپریل  (اے پی پی):سرکاری کاروباری اداروں سے متعلق کابینہ کی کمیٹی نے ان اداروں کے فارینزک آڈٹ کیلئے نظرثانی شدہ ٹرمزآف ریفرنس کی منظوری دیدی ہے۔سرکاری کاروباری اداروں سے متعلق کابینہ کی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو یہاں وفاقی وزیر خزانہ محمد حماد اظہر  کی زیر صدارت منعقدہوا۔اجلاس میں وفاقی وزیر نجکاری  محمد میاں سومرو ،وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرازق دائود،مشیر ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین اورمعاون خصوصی محصولات ڈاکٹر وقار مسعود نے شرکت کی۔اجلاس میں سرکاری کاروباری اداروں کے فورینزک آڈٹ کے ٹرمزآف ریفرنس کی منظوری دی گئی۔سیکرٹری خزانہ نے اے جی پی  آفس اور نجی آڈٹ فرمزکیلئے نظرثانی شدہ ٹرمزآف ریفرنس پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس سے معیارکویقینی بناتے ہوئے اورلاگت میں کمی پرتوجہ مرکوز کی جائیگی تاکہ گیپ کی نشاندھی ہوسکے اور بہترسفارشات مرتب ہوسکیں۔فورینزک آڈٹ میں سرکاری کاروباری اداروں کے نقصانات کی تحقیقات،مشکوک اورفراڈپرمبنی لین دین اورزمہ داروں کی نشاندھی شامل ہوگی۔تفصیلی گفت و شنید کے بعد کمیٹی نے سرکاری کاروباری اداروں کے آڈٹ کیلئے نظرثانی شدہ ٹرمزآف ریفرنس کی منظوری دیدی۔ اے جی پی آفس اورپیپراکے قواعد کے مطابق نجی آڈٹ فرمز آڈٹ کریں گی۔سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ پی آئی اے سی ایل نے آگاہ کیاہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پی آئی اے اور اس کی ذیلی کمپنیوں کا خصوصی آڈٹ کیاہے لہذاپی آئی اے کافورینزک آڈٹ پیپرا قواعد کے مطابق ہائیرکردہ کسی معروف نجی فرم سےکیاجائے۔کمیٹی نے اس تجویز کی منظوری دیدی۔