کراچی،22جون (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ احساس پروگرام سے لیکر دیگر پروگراموں میں سندھ کو حصہ ملاہے،احساس کیش میں 32 فیصد سندھ کے عوام کو دیئے گئے جبکہ آبادی کے لحاظ سے حصہ 22 فیصد بنتا ہے۔
یہ بات انہوں نے منگل کو یہاں گورنرہائوس میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ ڈاکٹر شہباز گل نے بتایا کہ وفاق کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے سندھ کو زیادہ بجٹ دیا گیا جس سے سندھ کے ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ہماری جماعت نے اپنی حکومت کے دوران کیا کیا ،سندھ میں کراچی سے ہمیں عوام نے بھاری مینڈیٹ دیا ہے، ہمارے منتخب نمائندے جواب دہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں12نئے ہسپتال، 12 یونیورسٹیاں بنائی جارہے ہیں، وفاق اور پنجاب کی ترقی ہم دکھاتے رہتے ہیں، آج سندھ پر بات کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بلاول زرداری نے الزام لگایا ہے کہ وفاق نے ٹیکس جمع نہیں کیا،18 ویں ترمیم کے بعد ٹیکس کے مطابق صوبوں کو حصہ ملنا ہوتا ہے،پچھلے سال سندھ حکومت نے ٹیکس 128ارب کا تخمینہ رکھا تھالیکن انہوں نے 105 ارب روپے ٹیکس جمع کیا،نان ٹیکس ریونیو 50 ارب سندھ کو جمع کرنا تھا، حاصل 12 ارب کیا گیا،سندھ میں اگلے سال کا ہدف24ارب روپے رکھا گیا۔
شہباز گل نے کہا کہ 155 ارب کی سندھ میں ترقیاتی سکیمیں دی گئی تھی جس میں سے صرف 100 ارب خرچ کئے گئے،55ارب روپے سندھ میں ترقیاتی فنڈ کے موجود ہیں، تیس ارب روپے سندھ حکومت کے پاس کیش رقم موجود تھی جس میں مزید اضافہ ہوا اور وہ اس وقت 65ارب ہو چکی ہے،یہ کیش کیا بینک میں رکھا ہوا ہے؟ جہاں سے کمیشن ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اتنا کیش موجود تھا تو عوام پر کیوں نہیں لگایا ،کتے کے کاٹنے کی ویکسین کیوں نہیں خریدی؟انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے ہم عوام کو بتائیں گے کہ سندھ حکومت کیا کر رہی ہے، سندھ حکومت ہمیشہ رونا روتی ہے کہ وفاق نے پیسے نہیں دئیے۔
معاون خصوصی نے کہا کہ جیکب آباد ،سندھ میں سکولوں ہسپتالوں میں گدھے بندھے ہوئے ہیں، بلاول کو گدھوں سے پیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 102 ارب سندھ پولیس کے لئے رکھے گئے، پورے خرچ نہیں ہوئے، سندھ میں ایگریکلچر کے لئے 14 ارب رکھے گئے تھے مگر 4ارب بچا لیا گیا، 10 ارب خرچ ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں ٹریفک چالان کی مد میں85کروڑ روپے ملے ہیں مگر پورے سندھ کی ایگریکلچر کا ٹیکس 61کروڑ ہے،بڑے بڑے مگر مچھوں نے ایگریکلچر ٹیکس نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ 700 ارب روپے وفاق نے سبسڈی کے لئے رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کا نظام تباہ ہے،سندھ میں 5ارب ٹرانسپورٹ کے لئے رکھے گئے لیکن 3 ارب خرچ کئے گئے،پنجاب میں تین میٹرو کی سبسڈی صرف دس ارب ہے،بی آر ٹی ایک بہتر منصوبہ ہے جو پورے شہر کا پلان تھا۔
شہباز گل نے کہا کہ 18ویں ترمیم کا مقصد تھا پیسہ وفاق سے صوبوں کو آئے اور لوکل باڈیز کے ذریعے عوام پر خرچ ہو، لوکل باڈیز کے لئے 78ارب رکھا گیا ، صرف 17ارب خرچ ہوا، وفاق سے ملنے والے پیسے کا دس فیصد تھا جو خرچ بھی نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا سے متعلق سامان، ویکسین سب وفاق نے سندھ کو دی، سندھ حکومت نے کورونا وائرس کی وبا کی مد میں فنڈ کہاں خرچ کیا؟سندھ کے وزرا ہماری باتوں کا جواب نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے محکمہ تعلیم میں 80فیصد سے کم بجٹ خرچ نہیں کیا گیا،سوشل ویلفیئر میں 27 ارب میں سے 23 ارب خرچ کیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ہر میدان میں ناکام ہے،سندھ میں نالیوں گٹروں کا کام بھی وفاق کو کرنا پڑ رہا ہے، 844 ارب سندھ کو وفاق سے ملنے ہیں،سندھ کو حصے سے زیادہ دیئے گئے، ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ یہ پیسہ سندھ کے عوام کو دیا گیا،لیکن یہ بجٹ آیان علی جیسے لے اڑتے ہیں، اندرون سندھ بنیادی سہولہات کا بہت بڑا فقدان ہے،وفاق نے سب سے زیادہ ویکسین سندھ کو دی،سندھ حکومت نے کتے کے کاٹنے کی کی ویکسین تک نہیں خریدی۔
انہوں نے کہا کہ پانی چوری کے معاملے پر سندھ حکومت بھاگ گئی، وزیر اعظم نے پانی کے معاملے پر کمیٹی بنائی تھی۔ سندھ سے نمائندے نہیں دیئے گئے،سندھ حکومت جو مانگتی ہے دیا جاتا ہے لیکن سندھ میں عوام پر یہ پیسہ نہیں لگتا۔
ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ 16ہزار ووٹوں پر پی پی نے کراچی سے سیٹ جیتی،اتنے کم ووٹوں پر یونین کائونسل کا چیئرمین بھی منتخب نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت جھوٹ کہتی ہے کہ وفاق کورونا کی ویکسین نہیں خریدنے نہیں دیتا،ویکسین خریدنے کے لئے کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں کوئی بھی خرید سکتا ہے، ہماری مکمل اجازت ہے سندھ حکومت ویکسین خرید سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بہت سارے منصوبے دیئے ہیں جو مکمل کرنے ہیں۔
اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ ، رکن سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی اور دیگر بھی موجود تھے۔