فیصل آباد،26 جو (اے پی پی ): صوبائی وزیرتوانائی ڈاکٹر محمد اختر ملک نے کہا ہے کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں آئیسکو ماڈل پر 2میگاواٹ کا سولر پاور پلانٹ لگایا جا رہا ہے جس کے ذریعے یونیورسٹی کو فیسکو کی موجودہ قیمت سے آدھی قیمت میں سستی اور ماحول دوست بجلی مہیا ہوگی۔
اس بات کا اعلان صوبائی وزیرتوانائی ڈاکٹر محمد اختر ملک نے یونیورسٹی کے نیو سینٹ ہال میں 7کروڑ روپے مالیت کے نیا پاکستان ریٹروفٹنگ پروگرام کی تکمیل پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
صوبائی وزیرکلچر و کالونیز میاں خیال کاسترو، صوبائی وزیربرائے وزیراعلیٰ پنجاب انسپیکشن ٹیم چوہدری اجمل چیمہ،ارکان اسمبلی میاں وارث عزیز، شکیل شاہد،سابق صوبائی وزیر اشرف سوہنا اور یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرانس سرور قریشی اور دیگر بھی موجود تھے۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ 7کروڑ روپے مالیت سے شروع کئے گئے نیا پاکستان ریٹروفٹنگ پروگرام کی تکمیل سے یونیورسٹی کو توانائی کے حوالے سے سالانہ ساڑھے تین کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے تحت یونیورسٹی میں ساڑھے سات ہزار پنکھوں کے ساتھ ساتھ 21ہزار ایل ای ڈیز، سٹریٹ لائٹس اور لائٹ پینلز نصب کئے گئے ہیں جن سے بجلی کے سالانہ 14لاکھ یونٹس کی بچت ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت اور وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی زیرنگرانی پنجاب کی 43جامعات کو سولرائزڈ کیا جا رہا ہے جس سے سالانہ ایک ارب روپے سے زائد کی بچت ممکن ہوگی جسے طلبہ کے وظائف سمیت بھلائی کے دیگر کاموں پر خر چ کیا جا سکے گا۔
صوبائی وزیرتوانائی ڈاکٹر محمد اختر ملک نے کہا کہ پنجاب کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ تحصیل ہیڈکوارٹرز،بنیادی مراکز صحت، پرائمری وایلیمنٹری اور ہائر سیکنڈری سکولوں کو بتدریج سولرانرجی پر منتقل کیا جا رہا ہے جس سے سالانہ اربوں روپے کی بچت کی جا سکے گی۔انہوں نے بتایا کہ ضلع لیہ میں چائنیز اور پاکستانی کمپنیوں کے اشتراک سے 100میگاواٹ کا سولرپارک لگا رہے ہیں جو گزشتہ حکومت کے قائد اعظم سولر پارک سے نصف قیمت میں سستی اور ماحول دوست بجلی فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ حکومتوں نے نہ صرف کپسٹی چارجز کی مد میں اربوں روپے پاور کمپنیوں کو ناجائز طور پر ادا کئے بلکہ سال 2030ء تک ایسے عوام دشمن معاہدے کئے جن سے غریب قوم کی جیبوں سے کھربوں روپے کی ادائیگی کی جانی تھی تاہم عمران خان کی حکومت نے پاور کمپنیوں کیساتھ کامیاب مذاکرات کے نتیجہ میں اربوں روپے کی بچت ممکن بنائی۔
ڈاکٹر محمد اختر ملک نے انکشاف کیا کہ ان کے محکمہ نے بہترین پالیسیوں پر عملدرآمد کے ذریعے گزشتہ تین برسوں کے دوران ایک ارب روپے منافع سے بتدریج 2.4۔ارب روپے کی بچت کو یقینی بنایا ہے جومختصر وقت میں غیرمعمولی بچت قرار دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے پالیسی شفٹ کی وجہ سے 17۔ارب ڈالر کے درآمدی فرنس آئل کی بجائے مقامی وسائل کواستعمال میں لایاجا رہا ہے جس سے قوم کے اربوں روپے کی بچت ممکن بنائی جا رہی ہے۔
صوبائی وزیر ڈاکٹر اخترملک نے بتایا کہ ہیڈ تریموں پر 1263میگا واٹ کا پنجاب تھرمل پاور پلانٹ لگا رہے ہیں جس سے جلد ہی سستی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت زیروفیصد سارون گارنٹی پر پاور سیکٹر میں 115۔ارب روپے کی سرمایہ کاری لائی ہے جن سے نہ صرف آئندہ چند برسوں میں ہزاروں میگاواٹ سستی بجلی میسر ہوگی بلکہ پاور کمپنیوں کو ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے میں ادائیگی کی جائے گی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ واسا اور پاور کمپنیوں کے مابین ادائیگیوں پر پیدا ہونیوالے مسئلہ کے پائیدار حل کیلئے بھی لائحہ عمل زیرغور ہے جس سے واسا کو اپنے ڈسپوزل اور واٹر سپلائی یونٹس چلانے کیلئے پاورکمپنیوں پر زیادہ انحصار نہیں کرنا پڑے گااور عوام کو ان کی سروسزبلاتعطل میسر آتی رہیں گی۔
انہوں نے اساتذہ اور ملازمین پر زور دیا کہ اپنی ذمہ داریوں کی مکمل آنرشپ لیتے ہوئے محنت،لگن اور خود احتسابی کے جذبہ کے ساتھ کام کریں تبھی ایک ترقی یافتہ ملک کی بنیاد ڈالی جا سکے گی۔
قبل ازیں وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر انس سرور قریشی نے اپنے استقبالیہ خطاب میں یونیورسٹی میں 7کروڑ روپے کی لاگت سے نیا پاکستان ریٹروفٹنگ پروگرام کے تحت توانائی کی بچت کے حامل ساڑھے سات ہزار پنکھوں 21 ہزار لائٹس کی تنصیب پر حکومت پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ حکومت اور یونیورسٹی کا ایک روپیہ خرچ کئے بغیر 2میگا واٹ کے سولر پلانٹ کی تنصیب سے یونیورسٹی کو سستی ترین بجلی کی فراہمی سے اس کے یوٹیلٹی واجبات میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ پیکا کے تعاون سے یونیورسٹی میں توانائی کی بچت کو یقینی بنانے کیلئے جو اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں ان سے بجلی کے ماہانہ بلوں میں خاطر خواہ کمی واقع ہورہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زرعی یونیورسٹی ملک کی پہلی درس گاہ ہے جس نے نہ صرف انرجی سسٹم انجینئرنگ کا چار سالہ ڈگری پروگرام شروع کیا بلکہ اسے پوسٹ گریجوایٹ سطح پر ترقی پر دے دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کی تین عمارتیں جن میں ڈیجیٹل لائبریری و آئی ٹی سینٹر‘ کمپیوٹرسائنس بلڈنگ اور سٹوڈنٹ فسیلٹی ٹیشن سینٹرشامل ہیں کو سولرائز ڈ کر دیا گیا ہے جس سے ماحول دوست سستی بجلی مہیا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بائیو انرجی انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے بھی 100کلوواٹ توانائی میسر آئے گی۔