صنفی بنیادوں پر جنم لینے والے پرتشدد رویوں کے علاج معالجے اور نفسیاتی کونسلنگ و معاونت  کے لئے بلوچستان میں تین ٹیلی میڈیسن کلینک قائم

24

کوئٹہ، 28 جون (اے پی پی): محکمہ صحت بلوچستان اور عالمی ادارہ برائے صحت نے کوویڈ کی عالمی وباءکے دوران معاشرے میں صنفی بنیادوں پر جنم لینے والے پرتشدد رویوں کے علاج معالجے اور نفسیاتی کونسلنگ و معاونت  کے لئے بلوچستان میں تین ٹیلی میڈیسن کلینک قائم کردئیے ہیں۔

 پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے پاکستان میں نمائندے  ڈاکٹر پالیتھا ماہیپلہ نے بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف سائیکاٹری اینڈ بی ہیوریل سائنسز میں ٹیلی میڈیسن سینٹر کا افتتاح کیا۔

 اس موقع پر منعقدہ  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ کوویڈ کی وجہ سے معاشرے میں صنفی بنیادوں پر جنم لینے والا تشدد معمولی بات نہیں بلکہ یہ سنگین صورتحال کی غمازی کرتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ پرتشدد معاشرتی تناؤ کو کم کرنے کے لئے کوویڈ سے متاثرہ افراد کا بہتر علاج معالجہ کرکے انہیں ذہنی خلفشار سے نجات دلائی جائے اور ان کی کونسلنگ کرکے انہیں معمول کی زندگی کی جانب لوٹایا جائے۔

ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے ڈبلیو ایچ او کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹیلی میڈیسن کلینکس اور صحت کے شعبے میں عالمی ادارہ صحت کی  معاونت اندرون بلوچستان عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوگی۔

 ڈبلیو ایچ او کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر پالیتھا ماہیپلہ نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت بلوچستان میں کوویڈ کے تناظر میں پیدا ہونے والے صنفی تشدد کے عنصر کے مضمرات سے نمٹنے کیلئے محکمہ صحت بلوچستان سے ملکر اقدامات کررہا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ٹیلی میڈیسن کے اس پائلٹ پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد اس کا دائرہ کار صوبے کے مزید علاقوں تک بڑھایا جائے۔

 انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ کلینکس بلوچستان کے تین اضلاع کوئٹہ،  قلعہ سیف اللہ اور پشین میں قائم کی گئی ہیں اور ان کا مرکزی جنکشن کلینک بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف سائیکاٹری میں قائم کیا گیا ہے جہاں متعلقہ شعبے کے ماہرین آن لائن طبی مشاورت و معاونت کے لئے موجود ہونگے۔