اسلام آباد،10جون (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین دیرینہ دو طرفہ تعلقات ہیں،خطے میں قیام امن کے حوالے سے دونوں ممالک کی سوچ میں مماثلت ہے۔ پاکستان، افغانستان سمیت خطے میں امن کا خواہاں ہے اور اپنی توجہ جغرافیائی اقتصادی ترجیحات پر مرکوز کیے ہوئے ہے ۔
ان خیالات کا اظہار وزیر خارجہ نے جمعرات کو امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین گریگوری ویلڈن مِیکس کے ساتھ بذریعہ ویڈیو لنک رابطہ کے دوران کیا۔دونوں رہنماؤں کے مابین بات چیت کے دوران پاکستان اور امریکہ کے مابین دو طرفہ تعلقات،اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور خطے کی اقتصادی ترقی کیلئے افغانستان میں امن کا قیام ناگزیر ہے،خطے میں روابط کے فروغ کیلئے قیام امن بنیادی ضرورت ہے جبکہ خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان اور امریکہ کے مابین تعاون، بہتر نتائج کے حصول کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس کے موقع پر میرے امریکی ممبران پارلیمنٹ سے رابطے انتہائی سودمند رہے ،میں نے انہیں اہم علاقائی اور عالمی امور کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا ۔
وزیر خارجہ نے امریکی ایوان نمائندگان کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین کو دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان،اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی فورمز پر نفرت آمیز بیانیے اور اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے تدارک اور “پرامن بقائے باہمی”کو یقینی بنانے کیلئے عالمی برادری کو مشترکہ اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
چئیرمین امریکی پارلیمنٹ فارن افیرز کمیٹی نے کہا کہ پاکستان خطے کا اہم ملک ہے،خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔
امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین گریگوری ویلڈن مِیکس نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی فیملی کے ساتھ پیش آنے والے المناک واقعے اور 4 معصوم شہریوں کی ہلاکت پر وزیر خارجہ کیساتھ اظہار تعزیت کی۔