اسلام آباد،26جون (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی سزرمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا، تاہم افغانستان سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے پاکستان کے جان و مال کو نقصان پہنچے ۔ سیف سٹی کے تحت اسلام آباد پولیس کی نفری بڑھا رہے ہیں ، 5جولائی سے اسلام آباد میں ریسکیو 1122کی سروس شروع ہو جائے گی ، پاک افغان بارڈر پر 88 فیصد باڑ لگائی گئی ہے جس پر اگلے ماہ کام مکمل ہو جائے گا۔
ہفتہ کو پمز ہسپتال اسلام آباد میں زخمی دو پولیس اہلکاروں کی عیادت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہاکہ بجٹ 30جون کو پاس ہو جائے گا، ہم 4یا 5جولائی سے ریسکیو 1122کا اجراء کرنے جارہے ہیں ،6گاڑیاں پہلے سے کھڑی ہیں 25گاڑیوں کا سکواڈ لا رہے ہیں۔ سیف سٹی کے تحت 4گاڑیاں پہلے سے کھڑی ہیں ان چوکیوں پر جو حساس ہیں جبکہ مزید 16 سولہ گاڑیاں بجٹ میں لے آئیں گے ، پوری کوشش ہے کہ ہم عوام کو سیکیورٹی فراہم کریں۔انہوں نے اسلام آباد کے دونوں پولیس نوجوانوں اور ایس ایچ او کو شاباش دی اور دونوں اہلکاروں کو اپنی جیب سے 25-25ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا۔
وزیر داخلہ نے کہاکہ پاکستان میں استحکام وزیراعظم عمران خان کے دور میں آیا ہے ، معیشت بہتر ہوئی ہے، ہم پرعالمی دبائو اور ایسے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاہم افواج پاکستان ، احساس ادارے اور پولیس کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے، کوڈ 19کے دوران ڈاکٹرز نے کورونا کی دوسری اور تیسری لہر کو شکست دی ، میں پر امید ہوں کہ پاک فوج ، احساس ادارے اور پولیس ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں اور خاص کر اسلام آباد پولیس کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہاکہ اس ملک میں جو جلسوس اور جلسے ہوں تو لوگ پشاور ، کراچی ، لاہور نہیں جاتے بلکہ ہر آدمی ڈی چوک کی طرف سینکڑوں میل دور سے آنے کی کوشش کرتا ہے ، ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ ڈی چوک کی طرف جائے اور یہاں انٹرنیشنل میڈیا ، سفارتخانے اور عالمی ادارے ہیں ، اس لئے ہم اسلام آباد پولیس کی نفری بھی بڑھانے جارہے ہیں ۔ ہم اسلام آباد پولیس کو بہترین سہولت فراہم کریں گے ۔
انہوں نے کہاکہ ہم امریکہ کو افغانستان کے خلاف اڈے نہیں دیں گے اور افغانستان کے خلاف کسی قسم کی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے لیکن ہم طالبان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے پاکستان کے جان و مال کو نقصان پہنچے ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پاک افغان سرحد پر 88فیصد باڑ لگائی گئی ہے تاہم باقی کام آئندہ ماہ تک مکمل ہو جائے گا ۔ اسی طرح ایران بارڈر پر 46فیصد باڑ لگانے کا کام مکمل ہو چکا ہے تاہم دسمبر تک اسے مکمل کیا جائے گا۔